کراچی(بیورورپورٹ)صدر کے قریب ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک عمارت کے تہہ خانے میں قائم آتش بازی کے سامان کے گودام میں زوردار دھماکا اور آگ لگنے سے 2 افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ فائر بریگیڈ کی 12 گاڑیاں چار گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوئیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ تاج میڈیکل کمپلیکس/سعدار پارکنگ پلازا کے قریب ‘الامنتہ پلازہ’ کی چار منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں ہوا، جہاں ‘سپر فائر ورکس’ کے نام سے گودام میں خام مال ذخیرہ تھا۔ شبہ ہے کہ شارٹ سرکٹ سے آگ بھڑکی جس کے بعد انتہائی آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث دھماکا ہوا، عمارت کے ستون و دیواریں متاثر ہوئیں اور بھاری سیمنٹ بلاکس وہاں کھڑی گاڑیوں پر جا گرے؛ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ایک لاش گودام سے نکالی گئی جس کی شناخت 15 سالہ اسد ولد وکیل کے نام سے ہوئی، جبکہ زخمیوں کی تعداد 34 بتائی گئی جن میں سے 4 تا 5 افراد بے ہوش اور نازک حالت میں ہیں۔ زخمیوں میں سے 20 کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور 14 کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں 2،2 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
ریسکیو اور کے ایم سی فائر بریگیڈ کی 12 فائر ٹینڈرز نے گھنے دھوئیں اور وقفے وقفے سے بھڑکنے والی آگ کے باوجود کارروائی جاری رکھی؛ پہلے مرحلے میں آگ 60 تا 70 فیصد تک قابو میں آئی، بعد ازاں تقریباً چار گھنٹے کی کوشش کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کے مطابق اس نوعیت کے کاروبار کے لیے 6 تا 8 اداروں سے این او سی درکار ہوتا ہے، دھماکا خیز مواد مخصوص حد سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں؛ مذکورہ گودام کے مالک نے آخری بار 2024 میں این او سی حاصل کیا تھا، مزید دستاویزات کا جائزہ لے کر قواعد کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے افسر راجا عمر خطاب نے جائے وقوع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آتش بازی کے سامان میں دھماکا خیز مواد موجود تھا؛ حال ہی میں اسی علاقے سے 2 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق رہائشی عمارت کے تہہ خانے میں 50 کلوگرام سے زیادہ آتش بازی کا سامان ذخیرہ ہونے کا امکان ہے، جو نہایت خطرناک ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹراما سینٹر سول اسپتال ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق ٹراما سینٹر میں لائے گئے 8 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ آگ پر جلد از جلد قابو پایا جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے، نیز شہری آبادی میں نقصان دہ مواد کی تیاری/ذخیرہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمشنر کراچی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
“اعداد و شمار پر مختلف رپورٹس”
مقامی میڈیا کے مطابق 2 اموات اور 33 زخمی رپورٹ ہوئے، جبکہ کچھ رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 34 بتائی گئی ہے؛ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی ابتدائی رپورٹس میں کم از کم 25 زخمیوں کا ذکر بھی آیا۔

