کراچی میں سیلاب، شوبز شخصیات کا حکومتی غفلت پر سخت ردعمل

کراچی ( نامہ نگارخصوصی) — حالیہ موسلا دھار بارشوں کے بعد کراچی کے مختلف علاقے شدید شہری سیلاب کی لپیٹ میں آگئے، جس پر شوبز شخصیات نے حکومت کی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی پر سخت ردعمل دیا ہے۔

بارشوں سے شہر کے نشیبی علاقے ڈوب گئے، بجلی معطل ہوگئی، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر ہوئیں اور اہم شاہراہیں زیر آب آگئیں۔ منگل کے روز ہونے والی بارش میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ سمیت کئی بڑی شاہراہیں دریاؤں کا منظر پیش کرنے لگیں، درجنوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں اور ایندھن ختم ہونے پر شہری اپنی گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر بارش اور سیلابی مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئیں، جن پر شوبز شخصیات نے افسوس اور برہمی کا اظہار کیا.

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہا کہ کراچی ڈوب رہا ہے مگر انفراسٹرکچر درست کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی۔
شجاع حیدر نے سوال اٹھایا کہ کیا انتخابات اس شہر کی حالت بدل سکتے ہیں، جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا؟
ماورا حسین نے افسوس کیا کہ لاکھوں کا گھر اور لاکھوں کے خوابوں کا سہارا کراچی بار بار ڈوب رہا ہے۔
طلحہ انجم نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ “گھبرانا نہیں، اجرک نمبر پلیٹ گاڑی کو ڈوبنے نہیں دے گی۔”
فرحان سعید نے کہا کہ کراچی والے جتنا برداشت کرتے رہیں گے، اتنا ہی ان پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا۔
مریم نفیس نے عوام کے حوصلے کو سراہا کہ مشکل وقت میں شہری ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آئے۔
حنا الطاف نے کہا کہ یہ بارش نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہم اس شہر میں کتنے غیر محفوظ ہیں۔
صنم سعید اور ایمن خان نے براہِ راست حکومت سے سوال کیا کہ عوام کو اس حال پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟
ڈینو علی نے افسوس ظاہر کیا کہ 2025 میں بھی کراچی ایک صبح کی بارش سے مفلوج ہوجاتا ہے۔

شوبز شخصیات کے اس ردعمل نے یہ واضح کیا کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی بارشوں کی شدت میں کردار ادا کر رہی ہے، لیکن دہائیوں سے جاری حکومتی غفلت، نکاسی آب کے ناقص نظام اور شہری منصوبہ بندی کی کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق جب تک حکومت شہری سیلاب کو اپنی انتظامی ناکامی تسلیم نہیں کرے گی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہیں اٹھائے گی، کراچی ہر سال بارشوں میں ڈوبتا رہے گا اور شہری قیمت چکاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں