قرآن پاک کی سورہ المائدہ میں واضح لکھا ہے، جس نے زمین پر فساد پھیلایا اور کسی انسان کو قتل کیا تو گویا پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا۔ یعنی انسانی جان اتنی قیمتی ہے کہ اس کی وضاحت قرآن پاک میں بھی کر دی گئی ہے، لیکن آج کراچی میں سال کے 225دِنوں میں 555سے زیادہ لوگ ٹرالروں، واٹر ٹینکروں، ڈمپروں، ٹرکوں، بسوں نے پہیوں تلے کچل کر مار ڈالے ہیں۔اس خون ناحق سے کراچی کی سڑکیں سرخ ہو چکی ہیں۔ دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان عوام سڑکوں پر بکھرا خون دیکھ کر غصے میں آ کر ڈمپروں کے ساتھ وہی سلوک کرنے لگے ہیں جو 15اپریل 1985ء کو سر سید کالج ناظم آباد کے باہر سڑک پر ہونے والے حادثے کے بعد کیا گیا۔ بسیں، منی بسیں جلائی گئیں اور پھر خون بہانے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ کراچی میں ہر طرف آگ پھیلتی چلی گئی۔ فوج بلائی گئی لیکن نقصان بہت ہوا۔ کچھ باخبروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 200 سے بھی زیادہ تھی۔ ایک ایسا حادثہ جس میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی جان گئی اور اس کی بہن نجمہ کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس حادثے نے کراچی کو ”بدل ڈالا“۔ آج پھر کراچی میں مرنے والوں کی تعداد دیکھ کر خوف آتا ہے۔ کراچی میں گزشتہ سال 500افراد حادثات کی نظر ہوئے تھے اور تقریباً پانچ ہزار زخمی، لیکن اس سال توسات مہینوں میں تعداد 12مہینے کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔سرکاری ذرائع اور میڈیا کے مطابق جولائی تک سات مہینوں میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈمپروں کے نیچے 34، ٹرالروں کے نیچے 63، واٹر ٹینکروں کے نیچے 37اور بسوں کے نیچے کچل کر 35 افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں 425 مرد 51بچے 51خواتین اور 19بچیاں شامل ہیں۔ 274موٹر سائیکل سواروں کو ٹرالروں،ڈمپروں، ٹرکوں، بسوں نے کچل کر مار ڈالا جبکہ پیدل چلنے والے 179افراد ان کا شکار ہوئے۔ 83افراد دیگر گاڑیوں کے نیچے آ کر کچلے گئے۔یہ تعداد انتہائی خوفناک ہے، خوف آتا ہے کہ اس سال یہ تعداد کہاں تک جائے گی۔ کراچی انتظامیہ اس حوالے سے بہت شور مچاتی ہے کہ ہم نے یہ کر دیا، وہ کر دیا۔ کمشنر کراچی حکم دے چکے ہیں کہ صبح 6 سے رات 10بجے تک ہیوی ٹریفک کا شہر میں داخلہ ممنوع ہے، حد رفتار صرف 30 کلو میٹر ہو گی،مگر کراچی میں ہونے والے حادثے دن کے اوقات میں ہوئے ہیں یعنی انتظامیہ مکمل ناکام ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکر نصب کروائے ہیں۔ 3391واٹر ٹینکرز، 28ڈمپرز، 82 آئیل ٹینکرز، 214 بسوں اور 214 چھوٹے ٹرکوں میں جی پی ایس ٹریکر لگا دیا گیا ہے۔ حکومتی دعوے کے مطابق یہ ٹریکرز 2763بڑے ٹرکوں اور 137 بڑے ٹرالروں پر بھی لگے گا۔ مگر تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہے۔ گذشتہ دنوں ایک نوجوان اپنی حاملہ اہلیہ کے ساتھ ہسپتال سے واپس گھر جا رہا تھا کہ راستے میں ایک ڈمپر نے انہیں کچل ڈالا اور سڑک پر تین لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ راشد منہاس روڈ پر 14سالہ احمد رضا اور 22سالہ ماہ نور اپنے والد کے ساتھ گھر جاتے ہوئے تیز رفتار ڈمپر کا شکار بنے۔ماہ نور کی شادی صرف ایک ماہ بعد ہونی تھی۔ ڈمپر ڈرائیور فردوس کا کہنا ہے پتہ ہی نہیں چلا موٹر سائیکل کب نیچے آگئی۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ڈمپر تو آہستہ چلا رہا تھا موٹر سائیکل والے خود نیچے آگئے۔ نیچے کیسے آئے دیکھ نہیں سکا۔یہ ہے ہمارا کراچی۔یہ حادثوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں گھروں میں صفائی کر کے اپنے تین بچوں اور نشئی شوہر کا پیٹ پالنے والی غریب ماں کا سات سالہ بیٹا ارسلان گھر کے باہر ماں کے انتظار میں تھا کہ گلی سے گزرنے والے واٹر ٹینکر نے اسے کچل ڈالا۔ ارسلان کی ماں کا ایک ہی سوال ہے جو وہ سب سے پوچھتی ہے۔ ”ہمارے بچے کب تک مرتے رہیں گے۔ میں اپنا بچہ کہاں سے لاؤں“۔ اسی طرح نیٹی جیٹی فلائی اوور پر ایک موٹر سائیکل سوار، مائی کلاچی روڈ پر موٹر سائیکل سوار نوجوان لڑکے لڑکی کو ٹرالر نے کچل ڈالا،اور تو اور ایک کلینر نے اپنے ہی ڈرائیور کو پہیوں تلے روند ڈالا۔ ٹریفک حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے کس کس کو لکھا جائے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ 15اپریل 1985ء کو رونما ہونے والا واقعہ یاد آنے لگا ہے۔40 سال گزرنے کے باوجود لگتا ہے آج بھی بشریٰ زیدی سامنے کھڑی ہے۔وہ بشریٰ زیدی جسے سر سید کالج جاتے ویگن ڈرائیور نے بس سے اترتے ہوئے کچل دیا تھا۔بشریٰ زیدی کی موت کے بعد جو فسادات پھوٹے اس کے نتیجے میں ”ایم کیو ایم کو کراچی میں قدم جمانے کا موقع ملا“۔1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کی لینڈ سلائیڈ وکٹری سے کراچی ایم کیو ایم کو مل گیا۔وہ الطاف حسین جس کی خون گرماتی تقریروں نے کراچی اور سندھ کو لسانی بنیاد پر تقسیم کیا تھا اسے آج پاکستان آنے کی اجازت نہیں ہے، مگر جنرل ضیا ء الحق کی اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ایم کیو ایم کی ”طرف سے“جو بیانات آج گورنر سندھ کامران ٹیسوری دے رہے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں۔ گورنر سندھ نے ماہ نور اور احمد رضا کے گھر تعزیت کرنے کے بعد جو کچھ کہا اس کا ”کسی کو“تو نوٹس لینا چاہئے۔ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا یہ خونی ڈمپر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ حادثات بڑھ رہے ہیں، مگر کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ماہ نور اور ارسلان کو کچلنے والے ڈمپر ڈرائیور کے پاس لائسنس بھی نہیں تھا۔ آج 16”وہیلر“ کا مقابلہ ”دو وہیل“والوں سے ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ 16 پہیوں والا دو پہیوں والوں کو کچل ڈالے اور پھر بدمعاشی بھی دکھائے۔ گورنر نے کہا ”کسی کا باپ ہمیں نہ بتائے کہ بدمعاشی کیا ہوتی ہے۔ ہمیں کسی نے ٹھیک نہیں کیا ہم خود ٹھیک ہوئے ہیں“۔ پھر یہاں انہوں نے یوٹرن لیا ایک دھیما پن گفتگو میں لائے اور کہا کہ گاڑیوں کو آگ مت لگائیں کیونکہ اس سے ”لسانی فساد شروع“ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حادثات کا رنگ دیا جا رہا ہے، لیکن یہ حادثات نہیں دہشت گردی ہے۔ گورنر نے یہ تو بتا دیا دہشت گردی ہے، مگر دہشت گرد کون ہے اور دہشت گردی کون کروا رہا ہے یہ نہیں بتایا۔ کراچی میں اگر دہشت گردی ہو رہی ہے تو فوج،پولیس، رینجرز، خفیہ ادارے کہاں سو رہے ہیں۔ کیا ان سب نے اس ”دہشت گرد“ کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اگر آنکھیں بند رہیں تو خدا نخواستہ 15اپریل 1985ء واپس نہ آ جائے۔

