کراچی:ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 کا آغاز، 142 ممالک کے فنکاروں کی شرکت

کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان میں 38 روزہ دوسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول (WCF) کا رنگا رنگ آغاز 31 اکتوبر کو زبردست جوش و خروش کے ساتھ ہوا۔ افتتاحی دن میٹھی دھنوں، دلکش رقص اور پرفارمنس آرٹس نے شرکاء کو مسحور کر دیا۔

“افتتاحی تقریب اور پرفارمنس آرٹ”
ڈان اخبار کے مطابق فیسٹیول کا آغاز مشہور مجسمہ ساز امین گلجی اور ان کی ٹیم کی پیش کردہ پرفارمنس آرٹ “دی گیم” سے ہوا، جس نے حاضرین کو گہری سوچ میں مبتلا کر دیا۔اس کے بعد مرکزی ہال میں باضابطہ تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔

“وزیر اعلیٰ سندھ کا خطاب”
افتتاحی تقریب سے خطاب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ “آرٹس کونسل نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کا ثقافتی دل بن چکی ہے۔ گزشتہ برس 44 ممالک شریک تھے، جب کہ اس سال 142 ممالک اور 1000 سے زائد فنکار شرکت کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “فن صرف خوبصورتی نہیں بلکہ یہ شفا، رابطے اور مزاحمت کی طاقت رکھتا ہے۔ سندھ کی ثقافت اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری امن و محبت کا پیغام دیتی ہے۔”

آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے اپنے خطاب میں تمام مہمانوں، فنکاروں اور تنظیمی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “فنکار ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ہم نے بھی آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف آواز بلند کی۔ اب جنگ بندی عارضی سہی مگر یہ انسانیت کے حق میں ایک قدم ہے۔”

“فنکارانہ مظاہرے”
فیسٹیول کے پہلے ہی دن شاہ جا فقیر گروپ نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری پر مبنی “سر ماروی” پیش کی، جسے بھرپور داد ملی۔

نیپال کے مدن گوپال نے اپنے ملک کا نغمہ گایا جس میں انہوں نے “کراچی” کا ذکر شامل کر کے سب کے دل جیت لیے۔

بیلجیم کی لسی ٹاسکر نے کلیرنیٹ پر دھنیں بکھیریں، جب کہ شام کے عمار اشکر نے ڈھولک کے ساتھ عربی و سندھی فیوژن پرفارمنس پیش کی۔

الغوزہ پر اکبر خمیسو خان نے اپنی فنکاری سے ہال گونجایا، فرانس کے زکریا حفار نے سنتور کی نرمی سے سامعین کو محظوظ کیا، اور کانگو کے اسٹریٹ ڈانسرز نے نوجوانوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔امریکا کے بیلیٹ بیونڈ بارڈرز گروپ نے “جنگ کا رقص اور تضاد” کے دو سولو پرفارمنس پیش کیے جبکہ بنگلہ دیش کی شیرین جواد نے اپنی گلوکاری سے شام کو یادگار بنا دیا۔

ورلڈ کلچر فیسٹیول آئندہ 38 روز تک جاری رہے گا، جس میں دنیا بھر کے فنکار ثقافت، موسیقی، رقص، فنون لطیفہ اور امن کے پیغام کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرام پیش کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں