کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا ہمیں کیا کرنا ہے:کیوبن صدر میگوئیل ڈیاز کینیل

ہوانا(غیرملکی میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیوبا سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے کہا ہے کہ کیوبا ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔

کیوبن صدر نے کہا کہ کیوبا کسی پر حملہ نہیں کرتا بلکہ گزشتہ 66 برسوں سے خود امریکی جارحیت کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا دھمکیاں نہیں دیتا، تاہم وطن کے دفاع کے لیے خود کو ہر وقت تیار رکھتا ہے۔

میگوئیل ڈیاز کینیل نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کو کاروباری نظر سے دیکھنے والوں کے پاس کیوبا پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، جبکہ انقلاب کو کیوبا کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار قرار دینے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کو درپیش معاشی مشکلات چھ دہائیوں سے جاری امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہیں اور اب امریکا انہی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

دوسری جانب کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے کہا کہ کیوبا نے کبھی بھی کسی ملک کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی خدمات کا معاوضہ وصول نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا امریکی بلیک میلنگ یا فوجی جبر کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔

کیوبن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کیوبا کو ایندھن برآمد کرنے والے کسی بھی ملک سے ایندھن درآمد کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکا کا رویہ مجرمانہ اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔