کہاں وہ قلم، برش اور پسینے کی کمائی اور کہاں یہ جادوئی AI ۔۔۔۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر 90 کی دہائی میں ہم جیسے “ٹیکنالوجی کے متوالوں” کے پاس آج والی مصنوعی ذہانت (AI) ہوتی، تو شاید ہم اب تک مریخ پر پہنچ چکے ہوتے، یا کم از کم ڈسک آپریٹنگ سسٹم (DOS) , امیج سیٹر، فلیٹ بیڈ اسکینرز اور SX386 پروسیسر کے ساتھ جو سر کھپائی کرنا پڑی تھی اس سے تو بچ جاتے۔

1990 کی دہائی میں جب میں نے نوائے وقت گروپ جوائن کیا، تو کام “ڈیجیٹل” کرنے کا خواب تھا، لیکن حقیقت میں ہم نیوز روم کے ٹیلی پرنٹر، رپورٹنگ کے زنگ آلود ٹائپ رائٹر، ڈیزائننگ کے شعبے میں برش، رنگ اور اسکینر کے ساتھ کشتی لڑ رہے ہوتے تھے۔ تب “کلاؤڈ” کا مطلب صرف بارش والے بادل ہوتے تھے، اور “لیئرنگ” صرف کپڑے پہننے کے انداز کو کہتے تھے۔ ‘دی نیشن’ کیلئے ڈیزائنگ کو ڈیجیٹل کرنا ایسا تھا جیسے ننگے پاؤں کانٹوں پر چلنا۔ شہزاد اختر، زاہد رانا، طلعت بٹ، پرنس ٹوٹو اور پروڈکشن سے اطہر ضمیر شعیب قادر جیسے جاں بازوں کے ساتھ جو تگ و دو کی، وہ آج کے بچوں کو سنائیں تو وہ یقین نہیں کرتے۔ وہ CMYK فلم پازیٹو نکالنا اور پھر پلیٹوں پر ایکسپوز کرنا، گویا پرنٹنگ نہیں، پرانا جادو ٹونا تھا (بڑھاپے کی وجہ سے کچھ نام بھول رہا ہوں، ان تمام ساتھیوں سے صدقِ دل سے معذرت!)

پھر وقت بدلا، پاکستانی اخبارات میں تکنیکی ارتقا کا دروازہ کھلا، سینکڑوں ساتھیوں کو آئی ٹی سکھانے کا موقع ملا، پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹل کیا، اور جدید ٹیکنالوجی سے دوستی نبھائی۔ یہ سفر اگرچہ ابھی تمام نہیں ہوا لیکن صاحب، آج کل جو AI نے طوفان برپا کر رکھا ہے، اسے دیکھ کر تو پرانے ڈیزائنر بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

فلم میکنگ، ڈیزائننگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ کے شعبوں میں AI نے وہ انقلاب برپا کیا ہے جو ہم 30 سال میں نہیں کر پائے۔ اب آپ کو گھنٹوں برش چلانے یا ایڈیٹنگ میں بال سفید کرنے کی ضرورت نہیں؛ بس ایک “پرومپٹ” دیں، اور لیجیے! آپ کا شاہکار تیار ہے۔ AI صرف ایک ٹول نہیں، یہ تو ایسا “جن” ہے جو آپ کا وقت بچا کر آپ کو تخلیق کے نئے افق دکھا رہا ہے۔

سوچتا ہوں آنے والے کل میں کیا ہم بس بٹن دبانے والے رہ جائیں گے؟

اب ذرا تصور کریں، اگر 90 کی دہائی میں ہم CMYK کے جنجال میں پھنسے تھے، تو مستقبل کیا گل کھلائے گا؟ آنے والے وقت میں “ڈیزائنر” یا “ویڈیو ایڈیٹر” کا مطلب وہ نہیں ہوگا جو سافٹ ویئر کے ٹولز جانتا ہو، بلکہ وہ ہوگا جو “بہترین سوال” (Prompt) پوچھنا جانتا ہو۔

آپ کو کوئی پروجیکٹ چاہیے؟ بس سوچیں: “ایک ایسی فلم بناؤ جس میں 90 کی دہائی کا ریگل چوک ہو، لیکن اڑنے والی کاریں ہوں اور جاز میوزک ہو!” اور چند سیکنڈز میں آپ کی پوری فلم، ایڈیٹنگ اور میوزک کے ساتھ تیار! شاید تب ہم جیسے پرانے لوگ اپنے پوتے پوتیوں کو بتائیں گے، “بیٹا! ایک زمانہ تھا جب ہمیں تصویریں خود بنانی پڑتی تھیں اور ایڈیٹنگ میں دن رات ایک کرنے پڑتے تھے۔” آنے والا دور ہمیں “تخلیق کار” (Creator) سے زیادہ “ہدایت کار” (Director) بنا دے گا۔ اب یا تو ہم اس AI کی سواری کر لیں، یا پھر ماضی کی یادوں کے ساتھ کسی عجائب گھر میں بیٹھ کر سوچیں کہ کاش ہمارے پاس بھی ایسا کوئی “جادوئی جن” ہوتا!

دوستو زیر نظر تصویر بھی مصنوعی ذہانت کا جادو ہے۔ مارکیٹ میں وڈیو ٹولز کی بھرمار ہے اور وہ خصوصیات کے حوالے سے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ انہیں استعمال کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی ٹریننگ کی ضرورت بھی نہیں، بس صرف آپ کو سوچنا آتا ہو، پلک جھپکنے میں رزلٹ سامنے ہوتا ہے۔

بہت سے پراجیکٹ ایسے چل رہے جہاں آپ کو بٹن دبانے یا پرامپٹ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں ہو گی، آپ کا دماغ ایک چپ کی مدد سے کمپیوٹر کیساتھ منسلک ہو گا اور آپ جو سوچ رہے ہوں گے وہ کمپیوٹر اسکرین پر متشکل ہو جاے گا (واللہ العالم)