پرانے وقتوں کی بات ہے کہ اندرون لاہور کے بارے میں ایک بات بہت مشہور تھی کہ یہاں ہر گھر میں ایک بھولا ضرور ہوتا تھا۔ ہر گھر میں نہ سہی، ہر خاندان میں ایک بھولا ہوتا تھا،،، یہ بھولا ایک گول مٹول شریر بچہ ہوتا۔ اکثر بھولے دادی کے لاڈلے ہوتے تھے،،، اور اکثر انہیں دادی نے ماں کی گود سے اچک لیا ہوتاتھا،،، بھولا دادا کو ”بڑے ابو“ اور دادی کو بڑی امی کہتا تھا،اس لیے ہر اچھے برے کام میں اُس کے بڑے امی ابو کا شیلٹر حاصل ہوتا تھا،،، اصل میں بھولے کے ذہن میں پیدائش کے وقت سے ہی کچھ ایسی کنفیوژن بیٹھ چکی ہوتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔ اور چونکہ سب اُس کے بارے میں سوچتے ہیں اور ایسا Behaveکرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرسکتا،اس لیے بھولے کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ ایسا کرے کہ لوگوں کی نظروں میں رہے کہ بھولا واقعی کچھ کر سکتا ہے۔ اسی اثناءمیں وہ دادی کی کہی، ماں کو اور ماں کی کہی دادی کو جڑنے کو ہمہ وقت مستعدرہتا ہے، اس لیے خاندان کے ہر بڑے جھگڑے میں بھولے کا نام لیا جاتاتھا ۔اگر آپ بھولے کے خدو خال کی بات کریں تو بسا اوقات بھولے کی ”نشانی“ یہ ہوتی کہ گھٹا ہوا جسم، منہ پہ بیک وقت حماقت اور عیاری کی گنگا جمی کیفیت، کان ذرا سے بڑے گال خوب چکنے اور تنے ہوئے، جس سے آنکھیں زیادہ ہی چنی محسوس ہوتیں اور توند بھی ذرا نکلی ہوئی، ،، اس کے علاوہ بھولا محلے کے بچوں پر ہیکڑی جماتا ہے، جوانوں کو سہمانے کی کوشش کرتا ہے، بزرگوں کو ٹھگتا ہے، ایک کی چیز دس کی لا کر دیتا ہے، راہ چلتی عورتوں کو گھورتا ہے، کھانے پہ بیٹھے تو سب کا کھانا اکیلا کھا جائے، بولنے پہ آئے تو اپنی بدزبانی سے سب کے دل چیر دے۔ ہر فساد کا بانی اور ہر جھگڑے کی روحِ رواں، یہ بھولا محلے کے سکون کا دشمن، خاندان کے سکھ کا قاتل اور شہر بھر کی خوشیوں میں کھنڈت ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ درجنوں عیب پالنے والا یہ بھولا، ہر حرکت کے بعد بھی رہتا” بھولا“ ہی ہے۔ سب کا دلارا، آنکھ کا تارا، جب کسی بری حرکت کے بعد دادی کے پاس پہنچتا ہے تو وہ فوراً دوپٹے سے منہ پونچھ، بلائیں لیتی ہیں اور پھلنے پھولنے کی دعائیں دیتی ہیں۔ماں کے پاس پہنچتا ہے تو وہ بھی تخمِ بلنگاں کا شربت لیے اپنے لعل پہ نثار ہونے کو کھڑی ہوتی ہے۔ یہاں آ کے عقل جواب دے جاتی ہے کہ آخر یہ کیا مصلحت ہے کہ اچھے بھلے ذہین فطین بچوں کی بجائے بھولے کی اتنی ٹہل سیوا ہوتی ہے۔لیکن کیا کریں فی زمانہ ہمیں بھولوں کو بھی جھیلنا پڑتا ہے، اُن کے ناز نخرے بھی اُٹھانے پڑتے ہیں،،، اسے مجبوری سمجھ لیں یا کچھ اور مگر یہی حقیقت ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے امریکی صدر بھی ”بھولے“ ہیں،،، وہ اپنے پہلے دور میں کئی متنازعہ فیصلوں کے باعث تنقید کی زد میں رہے،،، حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی اُن سے تنگ آگئی اورصدارت سے ہٹنے کے بعد اُن پر بہت سے کیس دائر کر دیے،،، اس دوران تاریخ میں پہلی بار امریکی پارلیمنٹ پر عوام نے دھاوا بھی بولا،،، لیکن بھولے لاڈلے کو اگلی مرتبہ عوام نے پھر منتخب کر دیا،،، اور اب کی بار بھی اُن کے فیصلوں سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ شاید ہی کبھی ”میچور“ رہے ہوں گے،،، کیوں کہ آج بھی ایک ایک بات کو ایک ہی خطاب میں دس دس بار دہراتے ہیں، انتہائی سیکرٹ باتیں پریس کانفرنس میں کرجاتے ہیں،،، حتیٰ کہ 10جنگوں کو رکوانے کا کریڈٹ لیتے لیتے ایک ایسی ایران اسرائیل جنگ میں کود پڑے ہیں کہ جہاں سے نکلنا انتہائی مشکل لگ رہا ہے،،، جس نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے،،، بلکہ یہ تو اتنے بھولے ہیں کہ اس نے ایران پر حملہ خود کے ذہن سے نہیں کیا بلکہ بقول اس” بھولے “کے کہ اس نے تین لوگوں کے کہنے پر حملہ کیا ،،،
ان میں ایک وینس ڈی جے جو ٹرمپ کے نائب صدر ہیں،،، جنہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت خطے کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔دوسرا امریکی وزیر خارجہ روبیو مارکو اور تیسرا امریکی وزیر دفاع ہیگ ۔ جبکہ انہوں نے نا تو اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کوئی رائے لی اور نہ ہی سینیٹ سے اور نہ ہی پینٹاگون کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ بلکہ اس کے برعکس امریکی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر گیبرڈ تلسی نے کہا ہے کہ انہوں نے کانگریس کو بریفنگ میں کہا تھا کہ موجودہ معلومات کے مطابق ایران اس وقت ایٹمی ہتھیار بنانے کے فوری مرحلے میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ضرور موجود ہے، مگر یہ کہنا کہ وہ فوری طور پر ایٹمی حملہ کرنے والا ہے، اس کے واضح شواہد نہیں ملے۔اسی طرح امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی بعض رپورٹوں میں بھی محتاط مو¿قف اختیار کیا گیا۔ ان اداروں کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ٹیکنالوجی ضرور ہے، مگر یہ ثابت نہیں کہ اس نے باقاعدہ ایٹمی ہتھیار تیار کر لیے ہیں یا فوری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔امریکا کی سیاست میں بھی اس معاملے پر اختلاف پیدا ہوا۔ کئی ڈیموکریٹ سیاست دانوں نے کہا کہ اگر جنگ کا جواز ایران کے ممکنہ ایٹمی حملے کو بنایا جا رہا ہے تو اس کے ٹھوس شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں۔
الغرض بھولے نے چند مفاد پرست عناصر کے کہنے پر جنگ تو چھیڑ دی ہے، اور اب وہ اسے ختم بھی کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ”بھولے“ کو کوئی کہے بھی کچھ ناں! ایسے میں پوری دنیا اس بھولے سے پریشان ہے مگر مجال ہے کہ کوئی اس کے سامنے بولے،،، حتیٰ کہ آپ ہمارے حکمرانوں کو دیکھ لیں،،، یقین مانیں وہ تو” بھولے“ کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں،،، اُن کی تو وہ تقریر ہی ہمیں نہیں بھولتی جو انہوں نے شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ کی شان میں پڑھی تھی،،، یعنی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امن کی یہ کامیابی صدر ٹرمپ کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے ٹرمپ کو حقیقی معنوں میں ”امن کا آدمی “ قرار دیاتھا۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ٹرمپ نے دن رات محنت کر کے دنیا کو امن کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا انہیں ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے گی جس نے کئی جنگیں رکوانے کی کوشش کی۔تقریب میں انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستان نے ٹرمپ کو امن کی کوششوں پر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔بلکہ ہمارے وزیر اعظم شرم الشیخ میں تو بولنا شروع ہی ہوئے تھے کہ پیچھے کھڑی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اپنا ہاتھ منہ پر لے گئیں اور ان کی آنکھیں ان کی حیرانی کی ترجمانی کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں صدر ٹرمپ کا چہرہ بھی دیکھا جائے تو اس پر بھی ایک خاص تاثر اُبھر رہا تھا کہ اس حد تک بھی کوئی جا سکتا ہے؟ صدر ٹرمپ جیسے شخص کو مردِ امن کے لقب سے نوازنا اور یہیں تک نہیں‘ فخریہ انداز میں اعلان فرمانا کہ پاکستان نے اس شخص کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ بھولے کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو بات سمجھ آتی ہے لیکن جیسا عرض کیا کہ مکھن لگانا بھی کسی حساب کتاب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔یعنی ہم تو مکھن لگانے کے ”اصول“ بھی بھول چکے ہیں۔ اس لیے بس فارم 47والوں سے اتنی سی التجا ہے کہ خدارا اپنا نہیں تو اس قوم کا ہی خیال کر لیں اور جہاں آپ ہر ملک کے ساتھ ایران حملوں پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں،،، وہیں ایک آدھ مذمت بھولے کے لیے بھی کردیں،،، خواہ بعد میں چاہے آپ التجا کر لیجئے گا کہ ”بھولا جی“ قوم کا دل بھی رکھنا تھا اس لیے آپ کے خلاف بات کی،،، ورنہ آپ جو مرضی کرتے رہیں،،، ہماری کیا جراّت!
لہٰذاعرض صرف اتنی ہے کہ اپنی خارجہ پالیسی کو درست کیجئے،،، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا سیکھیں،،، کیوں کہ اس وقت پاکستان نے اپنے آپ کو ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈالا ہوا ہے۔ بھولے سے بھی ایران کے خلاف کوئی اقدام ہوتا ہے تو مصیبت‘ سعودی عرب سمجھے کہ مدد مانگنے پر مدد نہیں آ رہی‘ وہ الگ مصیبت۔ پاکستان کو ایسی پوزیشن میں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن جیسے عرض کیا کہ مجبوری کے سودے ہیں۔یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ پاکستان دیوار سے سر ٹکرائے۔ لیکن یہ جو ہماری ایٹمی صلاحیت ہے کس کام کی جب حق اور باطل میں فرق واضح نہ رکھا جا سکے۔ اتنا تو کہنے کی ہمت ہو کہ ایران پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے۔ مذاکرات چل رہے تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں جوہری پروگرام پر معاہدہ قریب تھا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اگر جی سی سی ممالک آج مشکل میں ہیں اور جنگ کے شعلے ان تک پہنچ رہے ہیں تو بنیادی وجہ اس صورتحال کی ایران کا ردِعمل نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کا حملہ ہے۔ اتنا تو کوئی کہہ سکے کہ جارحیت کس نے کی۔ لیکن عملیت پسندی کے نام پر گول مول بات ہی یہاں سے آتی ہے کہ کہیں سعودی عر ب اور دیگر جی سی سی ممالک ناراض نہ ہو جائیں‘ کہیں صدر ٹرمپ ناراض نہ ہو جائیں۔ سفاک حملے میں ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای مارے جاتے ہیں تو ایرانی سفارت خانے پر کوئی بڑی حاضری نہیں ہوتی۔اسحق ڈار گئے اور اب سنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیت اور مبارکباد کا خط لکھا ہے۔لیکن ایرانی شہر میناب میں ایلیمنٹری سکول پر امریکی حملہ ہوتا ہے‘ 170 بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں اور مذمت کا ایک لفظ یہاں سے نہیں نکلتا۔ مانا مجبوری لیکن اتنی بھی کیا۔
بہرکیف ڈونلڈ ٹرمپ نے صدا ہمارے ساتھ نہیں رہنا،،، اس لیے اُسے نوبل پرائز دلوانے والی پالیسی کو ترک کریں،،، اور جن لوگوں نے ہمارے ساتھ مستقل رہنا ہے، جن میں ایران، افغانستان اور بھارت سرفہرست ہیں، اُن کے ساتھ تعلقات کو بہتربنائیں تاکہ آپ کی خارجہ پالیسی واضح ہو سکے ورنہ یونہی آپ دربدر پھرتے رہیں گے اور کوئی آپ کا وارث نہیں بنے گا!

