کیا امریکا ہیرو ہے یا طاقتور ترین ولن؟ عالمی مثالیں سوال اٹھانے لگیں

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)وینزویلا میں امریکا کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ ماضی میں لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو امریکی ڈالر سے علیحدگی کے بعد قتل کیا گیا۔ عراق میں صدام حسین کو تیل کے ذخائر کے معاملے پر اقتدار سے ہٹا کر انجام تک پہنچایا گیا۔

عالمی تاریخ کے مطابق ویتنام میں صدر نگو دینھ دیم اور ان کے بھائی کو سیاسی فیصلوں کے باعث قتل کیا گیا، ایران میں وزیر اعظم محمد مصدق کو تیل کو قومیانے پر اقتدار سے بے دخل کیا گیا، جبکہ گوئٹے مالا میں صدر جیکوبو آربنز کو امریکی کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا۔

کانگو میں وزیر اعظم پیٹریس لومومبا کو یورینیم کو قومیانے کے فیصلے پر قتل کیا گیا، کیوبا میں انقلابی رہنما چی گویرا کو سوشلسٹ پالیسیوں کے باعث گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔ افغانستان میں امریکا نے روس کے خلاف مقامی افراد کو تربیت دی، تاہم بعد میں یہی عناصر امریکا کے مخالف بن گئے۔

چلی میں صدر سالوادور آلینڈے کو تانبے کو قومیانے پر اقتدار سے ہٹایا گیا، گھانا میں صدر کوامی نکرومہ کو مغربی بینکوں سے تعلق ختم کرنے پر جلا وطن کیا گیا، جبکہ گریناڈا میں جنرل ہڈسن کو روس کے ساتھ اتحاد پر گرفتار کر کے عمر قید کی سزا دی گئی۔

ان واقعات کے تناظر میں عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا امریکا واقعی جمہوریت اور آزادی کا علمبردار ہے یا محض طاقت کے بل پر فیصلے کرنے والا سب سے بڑا عالمی ولن۔