کیلگری (نامہ نگار) کینیڈا کے شہر کیلگری نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومتِ البرٹا کو 10 ملین ڈالر کا بل بھیجا گیا ہے۔ یہ بل اس انتظامی خرچ کے حوالے سے ہے جو شہر صوبے کی جانب سے وصول کیے جانے والے پراپرٹی ٹیکس کی اکٹھا کرنے اور ترسیل پر کرتا ہے۔
شہری کونسل نے اس بل کی منظوری رواں سال مارچ میں دی تھی، اور اب شہر نے تصدیق کی ہے کہ یہ بل باضابطہ طور پر ایڈمنٹن کو بھجوا دیا گیا ہے۔
کیلگری کی میئر جیوتی گوندیک نے پیر کو بتایا کہ عام شہریوں کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے پراپرٹی ٹیکس کا تقریباً 37 فیصد حصہ صوبے کو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا”اگر یہ رقم شہر کے پاس رہتی تو یہ بجٹ سازی اور مقامی منصوبوں پر مثبت اثر ڈال سکتی تھی۔”
مقامی رہائشی کرن اسٹاؤفر نے کہا کہ جب انہیں ٹیکس بل ملا تو انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ کتنا حصہ صوبے کو اور کتنا شہر کو جا رہا ہے”میں صرف کل رقم دیکھتی ہوں اور وہی ادا کر دیتی ہوں۔”
شہری کیون پیرینٹ کا کہنا ہے کہ صرف صوبہ ہی نہیں بلکہ شہر کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے”دونوں طرف سے کٹوتی کی جا سکتی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ شہر کی سطح پر زیادہ فضول خرچی ہوتی ہے۔”
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ صوبہ یہ بل ادا کرے گا یا نہیں، تاہم انہوں نے نظام پر نظرثانی کی تجویز دی”اگر انہیں لگتا ہے کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا خرچ بہت زیادہ ہے تو میں اس پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہوں۔”
میئر گوندیک نے یہ بھی کہا کہ صوبے سے واپس آنے والا ریونیو کیلگری کیلئےمتناسب نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں اسکولوں کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

