کیلگری کے دریاؤں میں پانی کی کمی، طویل مدتی پانی کے تحفظ پر خدشات بڑھ گئے

کیلگری (نامہ نگار+CTV نیوز+گلوبل نیوز+CBC) کیلگری کے دو بڑے آبی ذرائع، بو دریا اور ایلبو دریا اس وقت قلت کی وارننگ کے تحت ہیں، جس نے شہر کے طویل مدتی پانی کے تحفظ کے خدشات کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔

2025 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دریاؤں میں پانی کا بہاؤ قدرتی سطح سے کم اور پابندیوں کے قریب پہنچ رہا ہے، جب کہ کیلگری کی آبادی اور پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں البرٹا کو تقریباً 9.7 ارب مکعب میٹر پانی مختص کیا گیا تھا، جو زیادہ تر دریاؤں اور جھیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم خشک موسم کے باعث حکام نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے آبی ڈھانچے کو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید بنانا ضروری ہے۔

کیلگری کی مینیجر آف نیچرل انوائرمنٹ اینڈ ایڈاپٹیشن، نیکول نیوٹن نے کہا کہ موجودہ ذخائر سرما گزارنے کے لیے کافی ہیں اور موسمی پیش گوئیاں معمول کی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
ان کے بقول”شہر مسلسل اپ اسٹریم بو ریور ریزروائر کے لیے وکالت کر رہا ہے۔ یہ ایک اہم ڈھانچہ ہے جو خشک سالی کے دوران پانی ذخیرہ کرنے اور مستقبل میں آنے والے سیلاب کو کم کرنے میں مدد دے گا۔”

پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر البرٹا حکومت نے پانچ سال کے دوران 125 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو خشک سالی اور سیلاب سے تحفظ کے منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

البرٹا کے وزیر ماحولیات اور محفوظ علاقوں کے پریس سیکرٹری ریان فورنیئر نے کہا”ہم البرٹا کی تاریخ میں کسی بھی سابقہ حکومت سے زیادہ اقدامات کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو مستقبل کی خشک سالیوں سے بچا سکیں۔ ہم موسم نہیں بدل سکتے اور نہ ہی بارش لا سکتے ہیں، لیکن ہم نئے ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔”

اسی دوران، کیلگری شہر پانی کے بچت پروگراموں میں توسیع کر رہا ہے تاکہ رہائشی اپنے روزمرہ استعمال کو کم کرسکیں۔ ان اقدامات میں بارش کا پانی جمع کرنے کے منصوبے، طوفانی پانی کے دوبارہ استعمال کے نظام کی اپ گریڈیشن اور ایک نیا واٹر ایفیشنسی پلان شامل ہے، جو 2026 میں جاری کیا جائے گا اور جس میں سپلائی اور آبادی کے توازن کے لیے نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ قلت کی وارننگیں بدستور جاری ہیں، مستقبل میں پانی کے نظام کو موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بچت دونوں کی ضرورت ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں