نیروبی/اسلام آباد (نامہ نگار+ایجنسیاں)کینیا کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ان چھ پاکستانی شہریوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے، جو گزشتہ 11 سال سے عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی، انصاف، اور سفارتی روابط کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ چھ پاکستانی شہری — یوسف یعقوب، صالح محمد، یعقوب ابراہی، غفور بھٹی، سلیم محمد، اور مولابخش — جولائی 2014 میں ایران سے تنزانیہ جانے والے تجارتی بحری جہاز ‘امین دریا’ پر سفر کر رہے تھے جب کینیا کی بحریہ نے انہیں منشیات اسمگلنگ کے شبہ میں گرفتار کر لیا۔ تاہم، بعد ازاں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جا سکے۔
جہاز کو بعد میں دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے ممکنہ ثبوت بھی ضائع ہو گئے۔ یہ اقدام بظاہر سیاسی نوعیت کا تھا جس نے اس کیس کو مزید مشکوک بنا دیا۔
ملزمان کو زبان کی رکاوٹ، مترجم کی عدم دستیابی، اور قانونی نمائندگی کی کمزوری جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا. کینیا کی عدالت نے 10 مارچ 2023 کو عمر قید اور 30 کروڑ ڈالر فی کس جرمانہ عائد کیا تھا۔قیدیوں کی عمر، صحت اور خاندانوں سے دوری کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں نیروبی میں قید رکھا گیا۔
پاکستان میں کینیا کے لیے ہائی کمشنر ابرار حسین خان کی انتھک اور ذاتی کاوشوں سے یہ معاملہ کینیا کی سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں بالآخر انصاف کی فتح ہوئی۔ ہائی کمشنر کی مسلسل پیروی اور انسانی بنیادوں پر کی جانے والی اپیلوں نے عدالتی رویے کو متاثر کیا، اور عدالتِ عظمیٰ نے ان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا”ہم کینیا کی سپریم کورٹ کے اس انصاف پسندانہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ انصاف، انسانیت اور بین الاقوامی سفارتی تعاون کی فتح ہے۔”
پاکستانی حکومت نے ان شہریوں کی واپسی اور بحالی کیلئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ دفتر خارجہ ان کے خاندانوں سے رابطے میں ہے اور جلد ان کی محفوظ واپسی کی تصدیق کی جائیگی۔

