اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)وزیراعظم مارک کارنی نے جاپان کے ساتھ نئی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد اقتصادی، توانائی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جاپان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔
ایم پی سونیا سدھو نے کہا کہ جاپان کے ساتھ یہ شراکت داری کینیڈا کیلئےاہم اقتصادی اور اسٹریٹجک نتائج لائے گی، جس سے سپلائی چینز مضبوط ہوں گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور ملک میں متوسط طبقے کیلئےبہتر ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ جاپان کے ساتھ تعلقات کو جدید اور وسیع بنا کر دونوں ممالک ایک محفوظ اور مضبوط معاشی مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
سونیا سدھو کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت تقریباً 40 ارب ڈالر ہے جبکہ کینیڈا میں گاڑیوں کی تیاری کے شعبے میں جاپانی کمپنیوں کا بڑا کردار ہے اور کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا تقریباً 70 فیصد جاپانی کمپنیوں سے منسلک ہے۔ اس نئی شراکت داری سے کینیڈا میں سرمایہ کاری، معیاری ملازمتوں کے مواقع اور صنعتی شعبوں کی جدید کاری میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم مارک کارنی کے ٹوکیو کے دورے کے دوران صاف توانائی، جدید مینوفیکچرنگ اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک ایل این جی، کم اخراج والی توانائی، جوہری ٹیکنالوجی، ہائیڈروجن، کاربن کیپچر اور بجلی کے نظام کی جدید کاری میں تعاون کو وسعت دیں گے۔
بیان کے مطابق سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، ہائیڈروجن فیول سیلز اور اہم معدنیات کے شعبوں میں بھی مشترکہ کام کو فروغ دیا جائے گا تاکہ مستقبل کی معیشت اور سپلائی چینز کو مضبوط بنایا جاسکے۔ اس مقصد کیلئےجاپان کا ایک بڑا تجارتی وفد کینیڈا کا دورہ کریگاجبکہ 2026 میں کینیڈا کی جانب سے جاپان کیلئےٹیم کینیڈا ٹریڈ مشن بھی بھیجا جائیگا۔
معاہدے کے تحت دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بھی بڑھایا جائیگا جس میں ہنگامی ردعمل، کوسٹ گارڈ کی مشترکہ مشقیں اور غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف اقدامات سے متعلق تین نئے مفاہمتی معاہدے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رائل کینیڈین نیوی اور جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کے درمیان بحری تعاون کو بھی وسعت دی جائیگی۔

