کینیڈا ایشیائی مارکیٹ میں ایل این جی کی فراہمی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا: ڈیوڈ ایبی

برٹش کولمبیا (نامہ نگار) –برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلیٰ (پریمیئر) ڈیوڈ ایبی نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا ایشیائی ممالک کو لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی فراہمی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین اقدار، اعتماد، اور کم لاگت فراہمی اسے ایک ترجیحی شراکت دار بناتی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الاسکا میں توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔

ایبی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا”کینیڈا ایک قابلِ اعتماد، پیش گوئی کے قابل اور عزت دار شراکت دار ہے، جو ایشیائی ممالک کو ایندھن براہ راست، محفوظ اور کم لاگت پر فراہم کر سکتا ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ کا بین الاقوامی طرزِ عمل — جسے انہوں نے “ذلیل اور توہین آمیز” قرار دیا — امریکہ کو ایک غیر قابلِ بھروسہ شراکت دار بناتا ہے۔

ایبی نے اس موقع پر ہیسلا نیشن کے ساتھ 20 ملین ڈالر کا معاہدہ بھی اعلان کیا، جو کہ سیڈر ایل این جی پروجیکٹ کے بنیادی انفراسٹرکچر کو سپورٹ کرے گا۔ یہ منصوبہ کیٹیمیٹ کے قریب ایک فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل پر مبنی ہے، جو دنیا کا پہلا مقامی اکثریتی ملکیت رکھنے والا ایل این جی فیسلٹی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کینیڈا کی معیشت کو متنوع بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

ایبی نے ٹرمپ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا”ایسا شراکت دار جس کے فیصلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیے جاتے ہیں، اچانک ایندھن کی فراہمی روک سکتا ہے یا تجارتی ٹیکس بڑھا سکتا ہے — اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ ایشیا کی کوئی حکومت ہیں، تو آپ آج کل توانائی کے لیے امریکہ کی طرف نہیں دیکھ رہے۔”

اس موسمِ گرما کے آغاز میں ایل این جی کینیڈا فیسلٹی سے پہلا بڑا ایندھن شپمنٹ ایشیا روانہ ہوا، جو کینیڈا کی اس صنعت میں بڑھتی ہوئی عالمی موجودگی کی علامت ہے۔

الاسکا کے سینیٹر ڈین سالیوان اور گورنر مائیک ڈنلیوی نے ٹرمپ کے منصوبوں کی حمایت کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم شگیری ایشیبا سے ملاقات کے دوران امریکی ایل این جی کی برآمدات کو “تاریخی” قرار دیا۔ اس موقع پر ٹرمپ انتظامیہ نے الاسکا سے ایشیا کو توانائی کی برآمدات کو امریکہ کی کامیابی قرار دیا۔

دوسری جانب بی سی گرین پارٹی نے سیڈر ایل این جی منصوبے کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا۔ پارٹی کے عبوری رہنما جیرمی ویلیریوٹ نے کہا”یہ منصوبہ صوبے کے فوسل فیول پر انحصار کو مزید بڑھائے گا اور برٹش کولمبیا کے ماحولیاتی اہداف کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صاف توانائی، عوامی صحت، اور کمیونٹی کی بھلائی کے لیے پائیدار ترقیاتی ماڈل اپنائے۔”

سیڈر ایل این جی منصوبہ 2028 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اس میں پمبینا پائپ لائن کارپوریشن کی شراکت بھی شامل ہے، جو کیلگری میں قائم ایک توانائی کمپنی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں