کینیڈا میں اقتصادی حکمتِ عملی کی جنگ، پریمیئرز کا ہنگامی اجلاس، اہم فیصلے متوقع

اوٹاوا(نامہ نگار)کینیڈا کے تمام صوبوں اور علاقوں کے وزرائے اعلیٰ کی سالانہ کانفرنس آئندہ ہفتے منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں درآمدی محصولات، بین الصوبائی اور بین الاقوامی تجارت جیسے اہم اقتصادی موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس سے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

کینیڈا کو اس وقت بین الاقوامی اور قومی سطح پر تجارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی کے علاوہ بین الصوبائی تجارت میں رکاوٹیں بھی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

اجلاس میں وزرائے اعلیٰ اس بات پر زور دیں گے کہ تجارتی پالیسیوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ کاروبار اور صنعتوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ بعض صوبے وفاقی حکومت سے امریکی درآمدات پر ممکنہ جوابی محصولات کے بارے میں واضح موقف چاہتے ہیں۔

کینیڈا کے اندر مختلف صوبے ایک دوسرے کی مصنوعات، خاص طور پر شراب، ڈیری مصنوعات اور توانائی کے تبادلے پر سخت ضوابط عائد کیے ہوئے ہیں، جس پر بعض وزرائے اعلیٰ کو شدید تحفظات ہیں۔

اس موقع پر “یو ایس ایم سی اے” (USMCA) معاہدے کی شرائط، خصوصاً زرعی، گاڑیوں اور توانائی کے شعبے میں اس کے اثرات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ کچھ پریمیئرز کینیڈا کی تجارتی وسعت کو امریکہ تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر عالمی معیشتوں کے ساتھ نئے معاہدوں کے حق میں ہیں۔

اگرچہ تمام وزرائے اعلیٰ معاشی ترقی اور تجارتی آزادی پر متفق ہیں، مگر علاقائی مفادات اور سیاسی وابستگیاں اختلافات کا باعث بن سکتی ہیں۔ البرٹا اور سسکیچیوان وفاقی ماحولیاتی پالیسیوں پر تحفظات رکھتے ہیں، جبکہ کیوبیک اور برٹش کولمبیا زیادہ سخت ماحولیاتی اقدامات کے حامی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں