مون سون نے ملک بھر میں زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے:صدر برائے خزانہ بورڈ شفقت علی
اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) – کینیڈا نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جون 2025 سے پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابوں نے خاص طور پر صوبہ پنجاب کو متاثر کیا ہے۔ اب تک ملک بھر میں تقریباً 40 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مکانات، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
کینیڈا کے صدر برائے خزانہ بورڈ شفقت علی نے کہا”مون سون نے ملک بھر میں زندگیوں اور روزگار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس امداد کے ذریعے جان بچانے والی سہولیات ان لوگوں تک پہنچ سکیں گی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”
کینیڈا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے نے کہا کہ کینیڈا پاکستان میں ہنگامی امدادی سرگرمیوں کیلئے 6 لاکھ ڈالر فراہم کریگا۔ اس امداد میں 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر سیو دی چلڈرن کینیڈا کو دیے جائیں گے جو انسانی امدادی اتحاد کا رکن ہے۔ یہ رقم ہنگامی پناہ گاہوں، امدادی سامان، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کی جائیگی۔ 2 لاکھ 50 ہزار ڈالرکی بقایا رقم پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی جاری امدادی کارروائیوں کیلئے کینیڈین ریڈ کراس کے ایمرجنسی ڈیزاسٹر اسسٹنس فنڈ کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔
مزید برآں، کینیڈا نے 2025 میں پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کو 20 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بے گھر افراد کی مدد کے ساتھ متاثرہ برادریوں کو ہنگامی ریلیف پہنچایا جا سکے۔
رندیپ سرائے نے کہا“پاکستان میں لاکھوں لوگ تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہیں اور فوری مدد کے منتظر ہیں۔ کینیڈا پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید امدادی اقدامات کرے گا۔”
کینیڈا نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے ڈیزاسٹر ریسپانس ایمرجنسی فنڈ میں رواں سال 50 لاکھ ڈالر دیے ہیں۔ اس فنڈ نے اس ہنگامی صورتحال کیلئے تقریباً 9 لاکھ 99 ہزار سوئس فرانک مختص کیے ہیں تاکہ صاف پانی، صحت کی خدمات اور نقد امداد فراہم کی جا سکے۔
کینیڈا ایشیا پیسیفک کے ریجنل ہیومینٹیرین پولڈ فنڈ کا بھی حصہ ہے، جس نے خیبر پختونخوا میں مقامی شراکت داروں کو ابتدائی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے ہیں، جبکہ پنجاب (اور ممکنہ طور پر سندھ) کیلئےدوسری قسط بھی متوقع ہے۔کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ضرورت کے مطابق امداد فراہم کی جا سکے۔

