پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کے کپتان نے کینیڈا کے پیئرسن ایئرپورٹ ٹورنٹو پر جہاز کے اترنے کا اعلان کیا تو میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا ، ہر طرف خوبصورت ،رنگ برنگے درختوں کے جھنڈ نظر آ رہے تھے ، فال سیزن اپنے جوبن پر ہے ،دن کے گیارہ بج رہے تھے اور سورج کی آب و تاب بھی دیدنی تھی،اکتوبر کا دوسرا حصہ شروع ہو چکا ہے جس میں عمومی طور پر سردی کی آمد آمد ہوتی ہے مگر گلوبل وارمنگ نے اس دفعہ کینیڈا میں سردی کو آنے کی ابھی مکمل اجازت نہیں دی یوں موسم ابھی تک کافی حد تک خوشگوار ہے۔
قارئین ، سوا مہینے کیلئےاس دفعہ کینیڈا آیا ہوں ،اس دوران دوستوں ،رشتہ داروں سے ملنے کے علاوہ کینیڈا کے مختلف شہروں میں گھوموں پھروں گا ، نئی نئی جگہیں ،آبشاریں ،جھیلیں دیکھوں گا ، کینیڈا کیسا ملک ہے ؟ میرے بیسیوں پیاروں اور عزیزوں کو اس نے کھینچ رکھا بلکہ گلے لگا کے رکھا ہے ،کہاں کہاں کے لوگ ، کہاں آن بسے اور پھر اگلے جہان جا بسے ، میرے آبائی شہر پتوکی سے تعلق رکھنے والے بڑے بھائیوں کی طرح انور چودھری کی رحلت پر یہاں مارکھم کینیڈا میں مقیم ان کے چھوٹے بھائی اور میرے عزیز دوست فاروق ارشد چودھری سے تعزیت کے لئے پہنچا تو چودھری منیر رنگا اور طاہر شاہ بھی وہاں موجود تھے ،جانے والے کو تو کوئی روک ہی نہیں سکتا مگر اسکی یادیں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں ،میں ہائی سکول کا طالب علم تھا تو ستر کی دہائی کے آخر میں.
کینیڈا کا پہلی دفعہ نام ارشد چودھری سے ہی سنا تھا ،اس کے مرحوم بڑے بھائی انور چودھری ان دنوں کینیڈا میں نقل مکانی کر چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ارشد بھی کینیڈا شفٹ ہو جائے اور یوں وہ بھی اسی کی دہائی کے آغاذ میں ہی کینیڈا آ گیا مگر انور بھائی برطانیہ شفٹ ہوگئے اور اب وہاں سے ہی اس جہان چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
کینیڈا کئی حوالوں سے اپنی الگ پہچان اور شناخت رکھتا ہے،تیزی سے ترقی کی نئی منازل طے کرتے کینیڈا کو اگر ’’منی ورلڈ‘‘کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا،یہاں ہر ملک،رنگ،نسل،مذہب سے تعلق رکھنے اور ہر زبان بولنے والے آباد ہیں۔اس جنت نظیر ملک کی خوبصورتی یہاں کے لوگوں کا تحمل اور برداشت ہے،یہاں کبھی مذہب رنگ نسل یا وطنیت کے نام پر لڑائی جھگڑا دیکھنے کو نہیں ملا،ہر کوئی اپنے حال میں مست ہے اور ایک دوسرے کی خوشی غم میں شرکت کی بہترین روایات نے کینیڈا کو گلدستہ بنا دیا ہے۔دنیا میں روس کے بعد رقبے کے لحاظ سے کینیڈا دوسرا بڑا ملک ہے ،اس کا رقبہ 9.984ملین مربع کلو میٹر ہے،کینیڈین حکومت اپنے ملک کے چپے چپے کو منافع بخش اور کار آمد بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے جس کے باعث یہاں روزگار
کے بہترین اور زیادہ سے زیادہ مواقع نکلتے رہتے ہیں ،جس بناء پر شہری خوشحال ہیں،کینیڈا کا ہر شہری وہ کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو اپنی خوشحالی کیساتھ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے بھی دن رات کام کرتا ہے جس کے باعث کینیڈا کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
معذرت اور معافی کینیڈین معاشرے کی ایک بڑی خوبی ہے،سماجی رتبہ اور مقام و مرتبہ کے بغیر کینیڈین شہری ایک دوسرے کو ’’سوری‘‘ کہنے میں سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں، وضعداری اور ایک دوسرے کے احترام کا عالم یہ کہ کینیڈا کے وزیر اعظم بھی اگر آپ سے پہلے کسی عمارت میں داخل ہوں گے تو وہ آپ کے لئے دروازہ کھول کے کھڑے ہوں گے۔ کینیڈین شہریوں کا طرہ امتیاز دوستانہ رویہ ہے،تلخی یا ترش روئی سے گفتگو کرنے والے کو جاہل تصور کیا جاتا ہے،بازار ،سڑکوں ،محلوں میں لوگ آپس میں دوستانہ ماحول میں بات چیت کرتے دکھائی دیتے ہیں،شہریوں میں لڑائی جھگڑا معمول نہیں ہے جو کینیڈین معاشرے کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب ہے،کینیڈا کی ایک اور خوبی بلند شرح خواندگی ہے،یہ ملک دنیا کے چند سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ممالک میں شامل ہے،یہاں کی حکومت شہریوں کی تعلیم اور صحت کے معاملات پر خصوصی توجہ دیتی ہے ،تعلیم نے کینیڈا کے معاشرتی حسن کو نمایاں کر دیا ہے،کینیڈا میں قدرتی طور پر شفاف پانی کی جھیلوں کی تعداد 30لاکھ سے زیادہ ہے،جو دنیا بھر کے ممالک میں موجود جھیلوں کی تعداد سے زیادہ ہے،اگر چھوٹی جھیلوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے،کینیڈین شہری اور حکومت بڑی ذمہ داری سے ان جھیلوں کو آلودگی سے بچاتے ہیں ،ان جھیلوں کی وجہ سے کینیڈا میں صاف پانی کی کوئی کمی نہیں،دنیا کے شفاف ، میٹھے پانی کے ذخائر کا 20فیصد صرف کینیڈا میں ہے،جو اس پر قدرت کی مہربانی ہے۔
کینیڈین شہریوں میں سبزی خوری کا رحجان بھی تیزی سے پرورش پا رہا ہے،10فیصد کینیڈین سبزی خور ہیں،جن میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے،اسی وجہ سے شہری صحت مند اور توانا ہیں،جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ ہیں،یہ ملک سفید ریچھوں کیلئے بھی جنت ہے،سفید ریچھوں کی بڑی تعداد یہاں کے برفیلے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہے،سروے کے مطابق ان کی آبادی 25ہزار سے زائد ہے،کالے ریچھوں کی بھی کمی نہیں ،یہاں کا موسم ان جانداروں کو بہت موافق ہے،حکومت بھی ان کی حفاظت کیلئے گراںقدر اقدامات کرتی رہہتی ہے ان کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے،جنت ارضی نماء اس ملک میں سردی کی بھی شدت ہے اور یہاں کا موسم مائنس 63ہے،برفانی دنوں میں زندگی یہاں کے اکثر علاقوں میں مفلوج ہو جاتی ہے،،حیرت ناک طور پر کینیڈا کی 90فیصد زمین غیر آباد ہے،اس کے باوجود کینیڈا کو کبھی غذائی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا،پھلوں کی پیداوار بھی ضرورت سے زیادہ ہے،کینیڈین حکومت غیر آباد زمین کو آباد کر نے کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے،جس کے بعد کینیڈا غذائی اجناس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا،برفانی علاقوں کی ا ٓباد کاری کا بھی منصوبہ ہے،جس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔
کینیڈا کا ساحلی علاقہ 20دو ہزار80کلو میٹر پر محیط ہے جو دینا کا سب سے بڑا ساحل ہے،اگر کوئی اس پر چلنا شروع کرے توساڑھے چار سال چلنے کے بعد وہ واپس اپنے نقطہ آغاز پر آئے گا،کینیڈا پر تسلط کیلئے فرانس اور برطانیہ میں طویل جنگ ہوئی جس کے بعد دونوں ممالک نے یہاں کے شہروں کو آپس میں تقسیم کر لیا،یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی زبان یہاں کی دوسری بڑی زبان بھی ہے، کینیڈا کا شہر مونٹریال،فرانس کے شہر پیرس کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جہاں فرنچ بولی جاتی ہے،کینیڈا کے شہری میپل ،پنیر اور آلو سے بنی ایک ڈش کو بہت پسند کرتے ہیں جسے پوٹین کہا جاتا ہے ۔میپل سیرپ تو یہاں کا پسندیدہ مشروب ہے،کینیڈین دنیا بھر میں سب سے زیادہ میکرونی اور چیز کھاتے ہیں، جسکی بنی میکن چیز یہاں کی خاص ڈش ہے،کینیڈین شہری خوشحالی،خوش گفتاری کی ساتھ خوش و خرم رہنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ،یہ لوگ خوشی منانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے مگر اپنی خوشیاں مناتے ہوئے کینیڈا کے باسی کسی دوسرے کی خوشیاں خراب نہیں کرتے۔

