برامپٹن (نمائندہ خصوصی) – وزیر اعظم مارک کارنی کی جانب سے گزشتہ ہفتے ہیملٹن میں کینیڈا کی اسٹیل انڈسٹری کو مضبوط بنانے اور مقامی مزدوروں کو سہارا دینے کیلئےنئے وفاقی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جو کینیڈین ورکرز کیلئےایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
یہ اقدامات ملک کے اندر اسٹیل مارکیٹ کو مستحکم کرنے، کینیڈین روزگار کو تحفظ دینے اور قومی انفراسٹرکچر و رہائشی منصوبوں میں کینیڈین اسٹیل کو ترجیح دینے کیلئےترتیب دیے گئے ہیں۔ ان میں غیر منصفانہ تجارت کو روکنے کیلئےنئے محصولات، مزدوروں کی تربیت پر سرمایہ کاری، اور اسٹیل سے متعلق کاروباروں کیلئےمدد شامل ہے۔
رکن پارلیمان سونیا سدھو نے کہا”برمپٹن میں ایک مضبوط مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبہ موجود ہے جو مستحکم اور مسابقتی اسٹیل انڈسٹری پر انحصار کرتا ہے۔ یہ نئے اقدامات مقامی ملازمتوں کے تحفظ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت، اور برمپٹن کے کارکنوں کو مستقبل کے کینیڈا کی تعمیر میں شراکت کا موقع دیں گے، وہ بھی کینیڈین اسٹیل کے ساتھ۔”
“وفاقی منصوبے کی اہم جھلکیاں”
کینیڈین اسٹیل کے تحفظ کیلئے نئے محصولات: غیر آزاد تجارتی معاہدہ ممالک کیلئےٹیرف کوٹہ مزید سخت کیا جائے گا، جب کہ چینی اسٹیل پر مشتمل اسٹیل مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔مزدوروں کی معاونت کیلئے “لیبر مارکیٹ ڈویلپمنٹ ایگریمنٹ” کے تحت 7 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ 10000 تک اسٹیل ورکرز کو تربیت اور آمدنی میں معاونت دی جا سکے۔
جدت کاری میں سرمایہ کاری کی مد میں “اسٹریٹجک انوویشن فنڈ” کے تحت اسٹیل کمپنیوں کو جدید بنانے اور ترقی دینے کیلئے1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے بزنس ڈویلپمنٹ بینک آف کینیڈا اور علاقائی ترقیاتی اداروں کے ذریعے فنانسنگ تک بہتر رسائی میںمدد کی جائیگی.
وفاقی منصوبوں میں کینیڈین اسٹیل کو ترجیح: نئی خریداری پالیسیوں کے تحت وفاقی فنڈ سے چلنے والے تمام منصوبوں میں کینیڈین اسٹیل کا استعمال لازمی قرار دیا جائیگا۔یہ اقدامات برامپٹن کے کاروباری اداروں اور مزدوروں کو عالمی معیشت کی بدلتی صورتحال میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
ایم پی سونیا سدھو نے اختتام پر کہا”یہ ہر ایک کیلئے کام کرنے والی مضبوط معیشت کی تشکیل کا معاملہ ہے۔ جب ہم کینیڈین اسٹیل اور کینیڈین ورکرز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، تو ہم ایک مضبوط برمپٹن اور ایک مضبوط کینیڈا کی بنیاد رکھتے ہیں۔”

