یہ کیسی نا انصافی ہے کہ گریڈ 22کی بے شمار آسامیاں دو سال تک خالی پڑی رہیں، مگر ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس نا معلوم وجوہ کی بنا پر طلب نہ کیا گیا،یوں گریڈ 22 میں ترقی کے حقدار کئی افسر گریڈ 21میں ہی ریٹائرڈ ہو کر مراعات سے محروم ہو گئے، وفاقی سیکرٹری کی نصف سے زائد آسامیوں پر گریڈ 21کے افسر تعینات رہے،ایک مضبوط صدر مملکت نے ایک دفعہ گریڈ اکیس کے ایک افسر کو انتہائی اہم محکمہ کا سیکرٹری لگانے کا حکم دیا تو ان کے سیکرٹری نے کہا یہ افسر جونیئر ہے یہاں کسی سینئر گریڈ22 کے افسر کو لگانا چاہئے تو صدرِ مملکت نے کہا گریڈ22 والے کو چھوڑیں، یہ افسر جونیئر ہے تو کیا ہوا، اس نے گریڈ بائیس بھی لینا ہے یہ ہماری تابعداری کرے گا،ہمارے شریف اور پنجابی حکمرانوں کا تو وتیرہ یہی رہا ہے کہ جونیئرز کو لگاؤ اور اپنی مرضی کا کام نکالو،اسی لئے یہاں گریڈ20 کی پوسٹوں پر گریڈ18 اور 22 کی پوسٹوں پر گریڈ اکیس کے افسر لگائے جاتے ہیں اور کئی کئی سال پروموشن بورڈ کے اجلاس نہیں بلائے جاتے،بورڈ کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر پر ریاست کا انتظام چلانے والے ان افسروں میں مایوسی کی کیفیت رہی، خدا خدا کر کے یہ اجلاس منعقد ہوا، مگر سوال یہ ہے کہ دو سال تک یہ اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا،اور جو افسر اس دوران گریڈ22 میں ترقی سے محروم رہے انہیں کون انصاف دے گا؟
گریڈ 22کسی بھی سول بیورو کریٹ کی سروس کی معراج، اس کا خواب ہوتا ہے،یہ سول سرونٹس کا آخری گریڈ ہے جو مسلح افواج کے تھری سٹار جنرل رینک کے برابر ہے، ملک میں لاکھوں سرکاری ملازمین اور بیورو کریٹس میں سے صرف چند درجن افسر ایک مقررہ وقت میں گریڈ بائیس میں خدمات انجام دیتے ہیں،گریڈ 22 تک پہنچنے والے ہر افسر کا اوسطاً 30 سال سے 32 سال تک کا سول سروس کیریئر ہوتا ہے، اس گریڈ میں ترقی کا فیصلہ ایک ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کرتا ہے۔ ملک بھر میں فوج کے بعد کوئی منظم اور ہر حال، خدمت میں مگن ادارہ ہے تو وہ بیوروکریسی یا انتظامیہ ہے،جسے سرکاری مشینری بھی کہا جاتا ہے،مگر اس مشینری کی بد قسمتی کہ ہر دور میں اسے زنگ آلودکرنے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے،کبھی مراعات پر قدغن لگا کر، کبھی ترقی کا عمل روک کر اور کبھی تبادلوں کا جھکڑ چلا کر،یہ کیسی الم نصیبی ہے کہ ریاستی امور کو قواعد کے تحت چلانے والے افسر وں کو بے قاعدہ کر دیا جائے،یہ بیوروکریٹس کڑے امتحان اور سخت ترین تربیت کے بعد عہدوں پر فائز ہوتے ہیں،ان کی ترقی کے لئے بھی آئین میں ایک قاعدہ مقرر ہے، مگر حکمران طبقہ اس آئینی ضابطے کو بھی سیاسی مفادات کے لئے اپنی مرضی سے استعمال میں لاتا ہے۔
ایک وقت تھا،گریڈ بائیس دینا وزیر اعظم کی صوابدید تھا، مگر اللہ بھلا کرے نرگس سیٹھی کا جو ماضی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سیکرٹری تھیں، انہوں نے گریڈ22 کا اتوار بازار لگا دیا تھا جس کی وجہ سے عدالت عظمیٰ نے یہ صوابدیدی اختیار ختم کر کے اس کے لئے رولز بنانے کا حکم جاری کر دیا۔ وزیراعظم اپنی تقریروں میں ہر فرد کو اپنے اپنے حصے کا دیا جلانے کی تلقین کرتے ہیں،مگر ریاست کے خدمت گار اعلیٰ دماغوں کو ان کا حق دینے میں لیت و لال سے کام لیا جاتا ہے،حالانکہ ہائی پاورڈ پرموشن بورڈ کے سربراہ بھی وہ خود ہیں،اسے کیا نام دیا جائے،تجاہل عارفانہ، دانستہ تساہل،یا بیوروکریسی کو اپنی طرف مائل کر کے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش، ایک افسر جو سخت ترین امتحان اور تربیت کے بعد سالوں سال فرائض کی بجا آوری کرتا رہا ہو ریٹائرمنٹ کے قریب اسے حق سے محروم کرنا اس کی محنت خدمت کی ناقدری نہیں تو کیا ہے؟ ایسا ہی رویہ رہا تو بیوروکریسی میں ایسے مجاہد کہاں سے تلاش کئے جائیں گے جو توقیر نہ پانے کے باوجود اپنے فرائض منصبی دیانتداری سے ادا کریں اور صلے کی خواہش نہ رکھیں۔
حالیہ بورڈ کے اجلاس میں تاخیر کی وجہ سے پولیس سروس کے غلام رسول،احسان صادق، اشتیاق احمد، فیاض احمد، سلطان علی خواجہ، عبد القادر قیوم، صابراحمد اور خالد خٹک گریڈ 21 میں ریٹائر ہو چکے ہیں، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے خاقان مرتضیٰ، حسن اقبال، طاہر خورشید سیکرٹریٹ گروپ کے ڈاکٹرعامر ارشاد شیخ، عامر محمود حسین، سیدخالد رضا، محمد سلمان، معراج انیس عارف، سلیم خان اور منیر احمد بھی بورڈ اجلاس کے تعطل کے باعث گریڈ 21 میں ریٹائر ہو گئے،ان افسروں کی حق تلفی کے لئے کون سزا وار ہے اور کون انصاف دے گا۔
خدا خدا کر کے اب اعلیٰ بیوروکریسی کی سنی گئی تو بے شمار افسروں کو تکنیکی طور پر ترقی کے حق سے محروم کر دیا گیا، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پنجاب میں کام کرنے والی اور گریڈ 21میں سینئر ترین خاتون افسروں ارم بخاری اور آمنہ عمران کو مخالف حکومت کے ساتھ کام کرنے کے جرم میں گریڈ 22 سے محروم کر دیا گیا،ارم بخاری اِس وقت صدرِ مملکت آصف زرداری کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور سنا گیا ہے کہ ان کی وہاں کارکردگی سے صدرِ مملکت بہت مطمئن ہیں۔
ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ اجلاس میں گریڈ 22 کی آسامیوں پر ترقی کے لئے ڈیڑھ سو سے زائد افسروں کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے،بورڈ نے ابھی تک پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 19،پولیس سروس کے8 اور فارن سروس کے 9 افسران کوگریڈ 22 میں ترقی دینے کی منظوری دی،پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ بائیس میں ترقی پانے والے افسروں میں وسیم اجمل چوہدری، امبرین رضا،علی طاہر،عثمان اخترباجوہ،محمد حمیرکریم،سید عطاء الرحمان،مصدق احمد خان، راشد محمود،مومن آغا، ندیم محبوب، محی الدین وانی،داؤدمحمد بڑہیچ، شکیل احمد منگنیجو، سعدیہ ثروت جاوید، اسدرحمان گیلانی،علی سرفراز حسین، زاہد اخترزمان،نبیل احمد اعوان اوراحمدرضاسرور شامل ہیں،پولیس سروس کے گریڈ بائیس میں ترقی پانے والے افسروں میں بی اے ناصر،غلام نبی میمن،فاروق مظہر، عمران یعقوب منہاس،عبدالخالق شیخ،شہزادسلطان،زبیر ہاشمی اورمحمدطاہر رائے شامل ہیں۔
حالیہ بورڈ اجلاس کے فیصلے کے بعد پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے تین افسر گریڈ بائیس میں ترقی پا چکے ہیں،جن میں چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور اور چیئرمین پی اینڈ ڈی بیرسٹر نبیل اعوان شامل ہیں،دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان تینوں میں سے کن کو وفاق میں بھیجا جاتا ہے، چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر وزیراعلیٰ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اِس لئے تاثر یہی ہے کہ وہ اسی عہدے پر اپنا کام جاری رکھیں گے،باقی دونوں افسر بھی اچھا کام کر رہے ہیں،اِس لئے ممکن ہے وہ بھی موجودہ عہدوں پر کام جاری رکھیں،ماضی میں جب مرحوم جاوید محمود چیف سیکرٹری پنجاب تھے تو ان کے تین چار بیج میٹ گریڈ 22 میں بھی ان کے ساتھ پنجاب میں کام کرتے رہے ہیں، حالیہ بورڈ کے نتیجے میں گریڈ 22 میں ترقی پانے والوں میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال بھی شامل ہیں، بڑے محنتی، قابل اور قسمت والے اس گریڈ میں کم عمر افسر ہیں اور وہ آئندہ آٹھ سال سے بھی زیادہ عرصہ اس اعلیٰ گریڈ میں کام کریں گے۔

