پشاور (نمائندہ خصوصی)گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان اسمبلی سے حلف لینے کے عدالتی حکم پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کو مراسلے ارسال کر دیے ہیں۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا مؤقف ہے کہ حلف کیلئےگورنر کی نامزدگی پشاور ہائیکورٹ کا آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔ اسپیکر نے معاملے پر سپریم کورٹ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف آئینی درخواست دائر کریں گے۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے گورنر کو مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان اسمبلی سے حلف لینے کی عدالتی ہدایت پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپنے مراسلے میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ “آئین کی روشنی میں اسپیکر ایک خودمختار آئینی اتھارٹی ہے، اور میری جانب سے اجلاس کا ملتوی کیا جانا غیر موجودگی کے زمرے میں نہیں آتا۔”
اسپیکر نے مزید کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا گورنر کو حلف لینے کی ہدایت دینا نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز ہے بلکہ یہ عدالتی و انتظامی دائرہ کار میں بھی نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم اس غیر آئینی مداخلت کے خلاف کل آئینی رٹ دائر کر رہے ہیں۔”
انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس حساس آئینی معاملے کا نوٹس لیں تاکہ پارلیمانی روایات اور اسمبلی کی خودمختاری کو تحفظ دیا جا سکے۔ اسپیکر کا مؤقف تھا کہ “ہم ہر آئینی اور قانونی راستہ اپنائیں گے تاکہ غیر آئینی اقدامات کو روکا جا سکے۔”
واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کی حلف برداری ہونی تھی، تاہم تحریک انصاف کے رکن شیر علی آفریدی کی کورم کی نشاندہی پر اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اجلاس ملتوی ہونے کے باعث سینیٹ انتخابات کا انعقاد بھی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو گیا۔
اجلاس کے التوا کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت عالیہ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ان ارکان سے حلف لینے کا حکم جاری کیا تھا۔یہ آئینی تنازع خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کی مداخلت متوقع ہے۔

