وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جب کہا کہ ملک میں ہائبرڈ نظام کامیابی سے چل رہا ہے تو ہمارے جمہوریت پسند(نواز نہیں) حضرات کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور انہوں نے مختلف اعتراضات شروع کر دیئے، حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب گوہر نے بھی بڑی زور دار تنقید کی اور ایسا کرتے وقت وہ بھول گئے کہ خود وہ اور ان کی جماعت کے بانی اور پیٹرن انچیف عمران خان اس سے زیادہ موثر نوعیت کے ہائبرڈ نظام میں وقت گزار چکے اور اب بھی ان کو جمہوری انداز نہیں مقتدرہ ہی یاد آتی ہے اور وہ بات چیت بھی اسٹیبلشمنٹ ہی سے کرنا چاہتے ہیں حالانکہ بقول ان کے حکمران اتحاد فارم47 ہی سہی لیکن اس وقت حاکم تو ہے اور جیسا میں نے عرض کیا تھا آپ کی نظر میں ڈی جیورو نہ سہی ڈی فیکٹو تو ہے اور یہ حقیقت آپ تسلیم کر کے ہی اسمبلی والی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں اور اب تک ایک لمحے کے لئے بھی معاوضوں میں اضافے پر اعتراض نہیں کیا،بلکہ حقیقت تو ہے کہ یہ سب آپ حضرات کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ آج جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں آپ کو زیر حراست مستند رہنماؤں نے بھی حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دیا ہے اور یہ پانچوں حضرات وہ لوگ ہیں جو سب کی توقعات کے خلاف بہادری سے ثابت قدم رہے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی تعریف تو غیر بھی کرتے ہیں کہ کینسر کی مریضہ ہونے کے باوجود وہ ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ڈگمگائیں،جہاں تک شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے تو انہوں نے ہم جیسوں کو بھی حیران کر دیا ہے جو ان سے دیرینہ واقفیت رکھتے ہیں۔ہمیں وہ ہائبرڈ دور بھی یاد ہے جب محترم ضیاء الحق کے دور میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور ہمارے پیر پگارو کے ”حر مرید“ محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے باغبانپورہ لاہور کے اقبال احمد خان وزیر قانون اور وزیر اطلاعات تھے، میں اور سید فاروق احمد (مرحوم+جنگ) چنبہ ہاؤس لاہور میں ان کے پاس بیٹھے گفتگو کررہے تھے کہ ملازم ایک چٹ لیکر آیا، خان صاحب نے اُسے کہا انہیں بٹھائیں، ابھی یہ دوست میرے پاس بیٹھے ہیں،تھوڑی دیر گذری کہ ملازم پھر آیا اور اس نے کہا کہ مہمان کہتے ہیں کہ وقت وقت نہیں لیں گے مل کر چلے جائیں گے،ہم دونوں نے خان صاحب سے کہا کہ ہم تو دیر تک بیٹھے ہیں، آپ مہمان کو بُلا لیں، تو انہوں نے ہاں کہہ دی،اس کے بعد جو صاحب تشریف لائے وہ محترم مخدوم سجاد قریشی تھے اور ان کے ساتھ گورا چٹا نوجوان سوٹڈ بوٹڈ تھا، سجاد قریشی نے خان صاحب سے مل کر نوجوان کا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ ان کا بیٹا ہے جو بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آیا ہے اس لئے وہ(سجاد) اسے ملانے کے لئے آئے ہیں، ان دونوں باپ بیٹے سے ہم نے بھی مصافحہ کیا اور وہ چاء پئے بغیر چلے گئے۔ یہ سجاد حسین قریشی اس کے قریباً پندرہ روز بعد پنجاب کے گورنر نامزد ہوئے اور روایت شکن ثابت ہوئے کہ انہوں نے گورنر شپ کا حلف دربار ہال کی بجائے گورنر ہاؤس کی مسجد میں اٹھایا تھا، میں یہ احوال پہلے لکھ چکا ہوا ہوں، یہاں ذکر نوجوان کا ہے۔
وہ نوجوان شاہ محمود قریشی تھے جو پھر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو کر صوبائی وزیر خزانہ ہوئے، ان کی اس حیثیت میں ہماری سول سیکرٹریٹ میں ملاقاتیں ہوتی تھیں، پھر زمانے نے پلٹا کھایا یہ نوجوان مخدوم زادہ، مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا پسندیدہ مقرر ٹھہرا، انتخابی مہم میں محترمہ نے جنوبی پنجاب کا دورہ کیا تو شاہ محمود قریشی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ محترمہ اپنی تقریر سے پہلے ان سے خطاب کے لئے کہتیں اور وہ سرائیکی میں مجمع گرما دیتے تھے،انہوں نے پارٹی کے ساتھ وقت گزارا اور پھر حالیہ دورِ جمہوریت میں پانچ سال پورا کرنے والی حکومت میں وزیر خارجہ رہے، اس کے بعد پیپلزپارٹی محض اس لئے چھوڑ دی کہ ان کو وزیر خارجہ کا پورٹ فولیو نہیں دیا جا رہا تھا،انہوں نے حلف نہ لیا اور ان کی کرسی خالی رہی تھی، اور بعدازاں انہوں نے پیپلزپارٹی چھوڑ دی اور تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تو ہمیں ان کے والد کے ساتھ اولین ملاقات یاد آ گئی کہ سب کچھ وہاں سے ملا تھا جہاں سے بعد میں ملا، تاہم ان کے ماضی اور اس وقت کے حال سے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ وفاداری تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ اتنے ثابت قدم نکلے کہ تمام تر افواہوں اور ٹانگ کھینچے جانے کے باوجود بھی انہوں نے پی ٹی آئی نہیں چھوڑی اور نہ ہی عمران خان سے وفاداری تبدیل کی اور اب تک اسیر ہیں۔
شاہ محمود قریشی کے حوالے سے اب کہا جاتا ہے کہ وہ بہتر اور ذہین سیاستدان اور موروثی نشست کے حامل ہیں،اب تو انہوں نے بھی دوسرے چار احباب کے ساتھ ایک خط لکھ کر قیادت سے کہا ہے کہ حکومت اور مقتدرہ سے مذاکرات کریں کہ ملک کے مسائل کا یہی حل ہے،اب ان کے بارے میں اور نوعیت کی گفتگو شروع کر دی گئی ہے، حالانکہ حالات اور واقعات نے ثابت کیا کہ اَنا اور ضد کے باعث مذاکرات نہ کرنا نقصان دہ ثابت ہوا، خواجہ آصف کے بقول ہائبرڈ نظام کامیابی سے چل رہا ہے تو پھر حکومت سے مذاکرات بے معنی نہیں رہتے کہ اس وقت حکومتی اتحاد اور مقتدرہ ایک پیج پر ایسے دکھائی دے رہے ہیں کہ کسی دوسرے صفحے کی ضرورت ہی نہیں۔
میں بھی اب خواجہ آصف کے کہنے پر بھرپور یقین کا حامل ہو گیا ہوں اور جمہوریت کے لئے آواز بلند کرنے والوں سے بھی عرض کروں گا کہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں اور اگر ذہانت ہے تو اسی نظام ہی میں سے راستہ نکالیں کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی فیصلوں کی رو سے جو تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں، ان کے باعث اب مسلم لیگ (ن) کو ایسی اکثریت اور حمائت حاصل ہو گئی ہے کہ اسے صرف دو تہائی اکثریت کیلئے اتحادیوں کی ضرورت ہے ورنہ حکومت سازی کیلئے نمبر پورے ہو چکے ہیں اب تو اتحادیوں کو بھی بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا، خصوصاً پیپلزپارٹی کو بہت کچھ سوچنا پڑے گا حتیٰ کہ آصف علی زرداری کو اب بلاول بھٹو ہی کو سامنے لاکر کھیلناہوگا ورنہ یہ معیاد پوری ہوئی تو نقصان زیادہ ہوگا، جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو خان صاحب سمیت سب کو سوچنا چاہئے تھا کہ وہ مقتدرہ کے ساتھ مل چکے اور ایک پیج کا دعویٰ پہلے انہوں نے ہی کیا تھا، لہٰذا بہتر ہے کہ اپنے لئے نہ سہی ملک اور ملک کے عوام کیلئے پانچوں رہنماؤں کی تجویز مان لیں اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بھی چاہئے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری پرحزب اختلاف کی بنچوں پر جا کر بیرسٹر گوہر خان اور اسد قیصر خان سے مصافحہ جیسا عمل مذاکرات کیلئے بھی کریں اور ابتدائی طریق کار طے کرنے کے لئے سپیکر کی قیادت میں سنجیدہ فکر حضرات کی کمیٹی بنا کر مذاکرات کا اعلان کر دیں اور توقع ہے کہ شاید اب اَنا آڑے نہ آئے۔

