پاکستان کے قیام کو78برس ہو گئے،پوری قوم آج یوم آزادی منا رہی ہے اس سال اس یاد کے رنگ ڈھنگ ہی اور ہیں کہ مئی میں دفاع پاکستان کے ذمہ داروں کی طرف سے بھارتی جارحیت کا جو منہ توڑ جواب دیا گیا اس سے پوری قوم سرشار ہے اور اس بار یہ سالگرہ معرکہ حق کے ساتھ ملا کر منائی جا رہی ہے،وفاق کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں اور عوام نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اگرچہ بارشوں، دربائی سیلابوں،گلیشیر پگھلنے اور تودے گرنے سے کثیر جانی و مالی نقصان ہوا،اس کے باوجود قوم نے اس سالگرہ کو یادگار بنا دیا ہے۔یوں بھی سیلاب اور برسات کی قدرتی آفت کے ساتھ ساتھ خوشی کی خبریں بھی ساتھ ساتھ مل رہی ہیں۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ سرکاری ترجمانوں کے مطابق معیشت سنبھل چکی، اب نقصان کے ازالے کے ساتھ ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہیں، یوں ہر طرف خوشی اور اطمینان کا عالم ہے، لیکن کہتے ہیں کہ زیادہ خوشی ہو تو کالا ٹیکہ لگا لینا چاہئے کہ نظر نہ لگے، لیکن لگتا ہے کہ ایسی احتیاط نہیں کی گئی اور گئی شب جزائر غرب الہند سے ایک کھیل کے انجام کا سامنا کرنا پڑا اور نہ صرف ساری خوشی غارت ہوئی بلکہ رُت جگے پر بھی دُکھ ہوا اور اب تک صدمہ سے دوچار ہوں کہ کرکٹ میرا جنون تھا اور ہے اِس سے اب تک چھٹکارا نہیں ملا۔اس امر کے باوجود کہ عرصہ ہوا میں نے اپنی کرکٹ ٹیم کو اس ہوش اور جوش کا مظاہرہ کرتے نہیں دیکھا، ایک دور تھا جب اسی ٹیم نے بھارت کی بہتر ٹیم سے فتح چھین لی تھی اور پھر یہ وقت بھی آیا کہ چیمپئن ٹرافی میں نہ صرف بھارت سے ہارے بلکہ ٹورنامنٹ ہی سے باہر ہو گئے اور اب ستمبر میں ہم ٹی20ء ایشیاء کپ کھیلنے جا رہے ہیں۔ بورڈ کے چیئرمین جو اب ایشین کرکٹ ایسوسی ایشن کے بھی صدر ہیں۔ سیاسی طور پر بھارت کی برتری کو خاطر میں نہ لا کر نہ صرف ایشیا کپ منعقد کرنے پر خوش ہیں بلکہ بھارت کو بھی یہ ٹورنامنٹ کھیلنے پر مجبور کر دیا ہے،حالانکہ مودی حکومت کھیلوں میں بھی سیاست کو گھسیٹ لائی ہے۔
ہمارے شاہینوں کو پہلے ہی کرکٹ کی بی گریڈ والی ٹیموں میں جگہ ملی ہوئی ہے جس کے باعث میچ کم ملتے ہیں بھارتی ٹیم حال ہی میں برطانیہ میں پانچ ٹیسٹ کی سیریز کھیل چکی ہے اور اب ایشز ہونے والی ہے جس کے لئے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان بھی پانچ میچوں ہی کی سیریز ہوگی۔ اگرچہ اس انتظام پر اب انگلینڈ بورڈ نے بھی انگلی اُٹھا دی، اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا کہ کھیل تو کھیل ہے اس میں چھوٹے بڑے ملک یا کھیل کا کیا تعلق؟ بہرحال حقیقت تو حقیقت ہے۔ قارئین! بات کرنا تھی اس صدمہ کی جو خوشیوں کے دوران ہماری کرکٹ ٹیم نے پہنچایا ہے۔میں شوق سے میچ دیکھتا ہوں، گو ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں پہلے دو ایک روزہ مقابلوں میں بھی کارکردگی کچھ بہتر نہیں تھی تاہم اتنا تھا کہ ہم پہلا میچ جیت کر مطمئن تھے اور دوسرا میچ ہار دینے کے باوجود توقع تھی کہ آخری اور فائنل میچ میں فتح ہو گی اور سیریز جیت لیں گے جیسے ویسٹ انڈیز سے امریکہ میں کھیلی جانے والی ٹی20 سیریز جیت لی تھی، چنانچہ پہلے دونوں میچوں میں خوبیوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کر کے ٹی وی کھول کر بیٹھ گئے کہ ٹیم نے مشاورت کر کے سوچ لیا ہو گا کہ کہاں کمزوری ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
کھیل کا آغاز ٹاس سے ہوتا ہے اور آدھ گھنٹہ پہلے یہ معرکہ کپتان رضوان نے مار لیا اور پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا کہ اس گراؤنڈ میں پچھلے دونوں میچ پانچ پانچ وکٹوں سے دونوں ٹیموں نے جیتے تھے۔ یہ فیصلہ دوسرے میچ میں بارش نے بھی درست ثابت کیا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو مقررہ رنز سے11رنز زیادہ بنانا تھے،جو انہوں نے بآسانی نو گیند پہلے بنا کر میچ جیتا تھا۔ بہرحال ہماری ٹیم نے پہلے فیلڈنگ کرتے ہوئے باؤلنگ شروع کی تو اطمینان ہوا کہ بہتر فیصلہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ چار رنز فی اوور کی اوسط سے بھی کم رہ رہی تھی اور یوں ہمارے شاہین پانچ آؤٹ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے لیکن پھر کوئی جادو کر دیا گیا وہ بھی شاید کالا تھا کہ کپتان شائی ہوپ سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے اور آخری چار اووروں میں نسیم شاہ، حسن اور ابرار کا جو حال چھٹی وکٹ کی اس جوڑی نے کیا وہ بھی تاریخی ہے کہ ہر اوور20رنز سے زیادہ کا پڑا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم ایک بڑا ٹوٹل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
خیال تھا کہ شاہین جم کر مقابلہ کریں گے اور یہ میچ دلچسپ ہو گا کہ اگر ویسٹ انڈیز آخری اووروں میں سکور کر سکتی ہے تو پاکستانی کھلاڑی بھی ایسی صلاحیت کے مالک ہیں،لیکن یہاں تو حال ہی اور ہو گیا،کوئی کھلاڑی جم نہ سکا اور ”تُو چل میں آیا“ والی صورتحال ہو گئی۔صائم ایوب، عبداللہ شفیق اور خود کپتان رضوان ”انڈے“ حاصل کرنے کا اعزاز پا گئے اور ہمارے ریکارڈ ساز سابق کپتان بابر اعظم صاحب اس سے تو بچ گئے، لیکن ڈبل فگر میں داخل نہ ہو سکے اور صرف9رنز کر کے پویلین واپس چلے گئے یوں پوری ٹیم92رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ویسٹ انڈیز نے یہ میچ 202رنز کی برتری سے جیت لیا، یہ بھی شاید ایک ریکارڈ ہو کہ ریکارڈ بتانے والوں نے یہ بتا دیا ہے کہ ویسٹ انڈیز پاکستان سے2-1 سے یہ سیریز جیتا ہے تو اسے یہ اعزاز33سال بعد مل سکا ہے، دُکھ تو یہ ہوا کہ دِل ناتواں مقابلہ بھی نہ کر سکا،مجھے تو ایسا محسوس ہوا کہ ہمارے اپنے دور میں ہمار ے سکول کی ٹیم کا جو حال اسلامیہ کالج کی ٹیم نے کیا تھا وہ یہاں دہرایا گیا ہے فرق صرف اتنا کہ ہماری ٹیم70رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی اور ہم اسلامیہ کالج ٹیم کے اوپنر بھی آؤٹ نہیں کر پائے تھے یہاں تو پانچ آؤٹ کر لئے گئے اور سکورنگ ایوریج بھی چار سے نہیں بڑھ سکی تھی، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ سارے باؤلر آگے لگ گئے۔
میں یہاں کھیل کی باریکیوں پر کچھ عرض نہیں کروں گا کہ ماہرین کرکٹ باقاعدہ شو منعقد کر کے سب کچھ کہہ رہے ہیں، مگر میں تو یہ یاد دلاؤں گا کہ عرصہ پہلے میں نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ جنگاری دبئی میں بورڈ کے سابق چیئرمین نے لگائی تھی وہ شعلہ بن رہی ہے اور جلا کر بھسم کر دے گی اور پھر وہی ہوا، الزام تھا کہ بابر اعظم آٹھ کھلاڑیوں کا گروپ بنا کر بلیک میل کرتا ہے، اسے سزا دیتے تو الگ بات تھی لیکن یہاں تو ان نامزد آٹھ کھلاڑیوں ہی کو سزا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا بہتر ہوتا ایسا ہی کرنا تھا تو شروع ہی میں سب کو فارغ کر دیتے، لیکن ابتداء کپتانی سے ہٹانے سے کی اور پھر اس پر بھی ثابت قدم نہ رہے اور یوں آنے جانے کا کھیل شروع ہو گیا،نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ٹیم اب متعدد گروپوں میں تقسیم ہو چکی اور قیادت کی خواہش کے لئے پرچی بھی حاصل کی جا رہی ہے، ٹیم سلیکشن اور تربیت میں اتنی خامیاں ہیں کہ گنائیں تو ختم نہ ہوں گی۔
بات صرف اتنی ہے کہ یہ کھیل اب ”مفاد پرستوں“ کے ہتھے چڑھ گیا اور اس کا حال بھی ہاکی جیسا کر دیا گیا کہ ہم اب فتح کے خواب دیکھا کریں گے اور یہ سب بورڈ میں لاکھوں روپے ماہوار کی نوکریاں بچانے اور حاصل کرنے کے لئے ہو رہا ہے۔نام میرٹ کا تو لیتے ہیں لیکن بورڈ کے کسی ایک عہدیدار اور ملازم کا نام لے کر بتا دیں کہ وہ میرٹ کے بل بوتے پر ہے۔ میں تو دِل برداشتہ ہو کر یہ کہنے پرمجبور ہوں، اللہ حافظ! اے کرکٹ، اللہ حافظ

