ہجوم بمقابلہ ریاست، عوام — آخر کب تک؟

پاکستان اس وقت ایک ایسی خطرناک روش پر کھڑا ہے جس نے ریاستی رٹ کو کمزور اور عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ملک کا کوئی بھی گروہ یا جماعت جب چاہے، کسی بھی بہانے سے ایک ہجوم لے کر سڑکوں پر آجاتی ہے، شاہراہیں بند کر دیتی ہے، ہاتھوں میں ڈنڈے، سوٹے، پتھر، پیٹرول بم اور اسلحہ اٹھا لیتی ہے، سرکاری و نجی املاک کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بناتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرتی ہے۔ خاص طور پر پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ان مظاہروں کا سب سے بڑا نشانہ وہ عام شہری بنتے ہیں جو کسی احتجاج کا حصہ نہیں ہوتے۔ ایمبولینسیں رک جاتی ہیں، اسپتالوں تک رسائی منقطع ہو جاتی ہے، کاروبار اور تعلیمی ادارے ٹھپ ہو جاتے ہیں، اور ریاست محض تماشائی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ برسوں سے بار بار ہو رہا ہے ، اور ہر بار کسی نہ کسی مفاہمت کے پردے میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

یہ ایک تلخ مگر کھلی حقیقت ہے کہ جب احتجاج کسی مخالف حکومت کے خلاف ہو تو چاہے کتنا ہی تشدد ہو اور کتنا ہی جانی و مالی نقصان کیوں نہ ہو، حکمران طبقہ سیاسی مصلحت کے تحت نرم رویہ اختیار کرتا ہے، چند مقدمے قائم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ معاملہ ٹل گیا۔ جانی نقصان چاہے حکومتی اہلکاروں کا ہو یا احتجاجیوں کا، ایسے مقدمات کا کبھی کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ احتجاج کرنے والی اپوزیشن جب اقتدار میں آتی ہے تو اپنے خلاف مقدمات واپس لے لیتی ہے۔ یوں ملک احتجاجوں کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن چکا ہے، جہاں قانون کمزور اور طاقتور گروہ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاستی رٹ اسی طرح کھوکھلی ہوتی چلی جا رہی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب مذہبی رنگ رکھنے والے گروہ میدان میں آتے ہیں۔ وہ خود کو حق پر اور دوسروں کو باطل پر سمجھتے ہیں، کسی قانون یا ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے اور جب چاہیں سڑکیں بند کر دیتے ہیں۔ ان کے احتجاج کے دوران ٹرانسپورٹ معطل ہو جاتی ہے، کاروبار مفلوج ہو جاتا ہے اور خوف و بے یقینی کی فضا ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ یہ گروہ کھلے عام تشدد کرتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قتل تک کر دیتے ہیں، ریاست شور مچاتی ہے مگر یہ شور جلد ہی مصلحتوں، مذاکرات اور معاہدوں کے شور میں دب جاتا ہے۔ قتل بھی معاف ہو جاتے ہیں، اور ریاست کا کمزور ردِعمل انتہا پسندی کو مزید تقویت دیتا ہے۔ یوں ان گروہوں کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں، اور کچھ عرصہ بعد وہ کسی اور بہانے سے ایک بار پھر نکل آتے ہیں اور وہی سب کچھ دہراتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں یہ مسئلہ احتجاج کے حق کو ختم کیے بغیر حل کیا جا چکا ہے۔ برطانیہ میں ہسپتالوں، اسکولوں اور مرکزی شاہراہوں کے قریب احتجاج پر سخت پابندی ہے اور پولیس فوری کارروائی کرتی ہے۔ فرانس میں پیشگی اجازت کے بغیر مظاہرہ ممکن نہیں، اور خلاف ورزی پر مظاہرین کو منتشر کر دیا جاتا ہے۔ سنگاپور میں عوامی مقامات پر بغیر اجازت احتجاج پر مکمل پابندی ہے اور قانون شکنوں کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہوتی ہے۔ جاپان میں احتجاج صرف مخصوص مقامات پر کیا جا سکتا ہے، اور اگر شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو تو پولیس فوری مداخلت کرتی ہے۔ کینیڈا میں بھی اسپتالوں، اسکولوں، ائیرپورٹس اور ہائی ویز کے قریب کسی قسم کے مظاہرے کی اجازت نہیں۔

یہ اصول پاکستان میں کیوں نہیں اپنائے جا سکتے؟ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ہے لیکن اس کی بھی ایک حد مقرر ہے۔ کوئی بھی ملک یہ اجازت نہیں دیتا کہ چند لوگ کروڑوں شہریوں کی آزادی اور روزمرہ زندگی سلب کر لیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں بھی احتجاج کو مخصوص مقامات اور قواعد و ضوابط کے تحت محدود کیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا ، تاکہ احتجاج ایک نظم و ضبط والا جمہوری عمل بنے، ریاستی کمزوری کا ہتھیار نہ بنے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ اگر احتجاج باقاعدہ اجازت سے اور پرامن طریقے سے ہو تو حکومت کو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے، اور نہ ہی طاقت کا غیر ضروری استعمال کرنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف امن و امان کا تحفظ ہے، شہریوں کے بنیادی حقِ اظہار کو دبانا نہیں۔

اس تمام صورتحال کا ایک نہایت خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان احتجاجوں کے دوران درجنوں نام نہاد صحافی اور یوٹیوبرز مائیک اور فون اٹھائے میدان میں آجاتے ہیں۔ وہ محض اپنی ویوز اور فالوورز بڑھانے کے لیے جھوٹی، مبالغہ آمیز اور سنسنی خیز افواہیں پھیلاتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں اور یوں خوف و ہراس کو بڑھا کر تشدد کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس خطرناک عمل پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی، حالانکہ یہ عمل اب باقاعدہ دہشت گردی کی ایک شکل اختیار کر چکا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گردی کے بیانیے کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر روس نے 2022 میں ایسا قانون نافذ کیا جس کے تحت فوج یا ریاست کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے پر 10 سے 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، اور اس قانون کے تحت متعدد افراد کو سزائیں دی گئیں۔ سنگاپور نے 2019 میں ایسا قانون بنایا جس کے تحت حکومت کسی بیان کو غلط قرار دے کر اسے ہٹانے یا درست کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ تیونس میں 2022 میں سائبر کرائم قانون نافذ کیا گیا جس کے تحت ریاستی سلامتی کے خلاف مواد پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ بعض کیسز میں سزائے موت بھی سنائی گئی۔ چین میں آن لائن پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف مواد فوری ہٹا دیا جاتا ہے، جب کہ خلیجی ممالک میں بھی اس نوعیت کے سخت قوانین موجود ہیں۔جرمنی میں نفرت انگیز یا غیر قانونی مواد پر بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، اور کینیڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے واضح تجارتی اور قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومت واضح اور دوٹوک قانون سازی کرے۔ اس قانون کے تحت ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ائیرپورٹس، مرکزی شاہراہوں، وفاقی دارالحکومت اور تمام صوبائی دارالحکومتوں میں کسی قسم کے احتجاج پر مکمل پابندی ہو۔ احتجاج صرف مخصوص، محفوظ اور شہری زندگی سے الگ مقامات پر ہو سکے اور اس کے لیے پیشگی اجازت اور وقت کی حد لازمی قرار دی جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں دی جائیں اور املاک کے نقصان کا بوجھ احتجاجی تنظیموں یا سیاسی جماعتوں پر ڈالا جائے۔ اگر کوئی گروہ سڑکیں بند کرتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے تو ریاست کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ براہ راست لاگت وصول کرے اور ذمہ داران کو فوری سزا دے۔ ریاستی اداروں پر مزاحمت یا حملے کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ واضح پیغام جائے کہ ریاست کو للکارنا معمولی بات نہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں اپنی روش تبدیل کریں۔ احتجاج کا حق کسی دوسرے شہری کے حقِ زندگی اور آزادی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ جس طرح وہ اپوزیشن میں سڑکیں بند کر کے دباؤ ڈالتی ہیں، اسی طرح حکومت میں آ کر اپنے مقدمات ختم کر دینا ایک کھلا تضاد اور ریاستی رٹ کے لیے زہر قاتل ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔

اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے۔ اگر ریاست نے اب بھی مؤثر، غیر مبہم اور سخت اقدام نہ اٹھایا تو آنے والے وقت میں سڑکیں عوام کے نہیں بلکہ مکمل طور پر گروہوں کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ بلکہ اب بھی روز بروز ہونے والے مظاہروں اور احتجاجوں کے باعث سڑکوں پر کنٹینر بردار گروہ قابض رہتے ہیں، جس سے ریاست کا وجود، ساکھ اور شہریوں کا اعتماد مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عالمی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا فریم ورک بنائے جو اظہار رائے کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے شہری زندگی اور ریاستی وقار کا تحفظ کرے۔ احتجاج کسی بھی جمہوریت کا حصہ ہے، مگر جب وہ دوسروں کی آزادی سلب کرنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ جمہوریت نہیں رہتی ، محض انتشار بن جاتی ہے۔

ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کے لیے اب صرف بیانات نہیں بلکہ عمل درکار ہے۔ سیاسی مصلحتوں اور کمزوریوں کا وقت گزر چکا ہے۔ سڑکوں پر قانون کی حکمرانی قائم نہ کی گئی تو یہ سڑکیں قانون کو روند ڈالیں گی۔ فیصلہ اب ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ عوام کو بھی معصومیت میں یا مذہبی یا سیاسی نعروں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے سنجیدگی سے سوچ کر ایسے عناصر کے عزائم کو سمجھنا ہوگا ، اور ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں