ہم جدت کو شکست دے کر رہیں گے؟

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا، یہ زندگی ہے ہم پاکستانی ہیں اور ہم نے یہ بھی طے کر لیا ہے کہ دورِ جدید میں سائنس کی عنایت سے مستفید ہوں گے جو بالکل درست فیصلہ ہے تاہم ترقی یافتہ ممالک میں تو آن لائن مسائل کبھی کبھار ہوتے اور ان کا حل بھی آن لائن ہی ہو جاتا ہے تاہم ہم جیسے ترقی پذیر ممالک ابھی آئی ٹی کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور تہیہ کر رکھا ہے کہ جدید سائنس کو بھی پچھاڑ کر رہیں گے،اس کا ایک تجربہ تو اس وقت ہوا جب اپنی پنشن کے چیک لینے گئے کہ ہم روزنامہ امروز سے فارغ ہیں اور بڑی تگ و دو کے بعد پنشن منظور ہوئی تھی، این پی ٹی کی انتظامیہ یہ پنشن چیک کے ذریعے دیتی ہے۔ مرکزی دفتر اسلام آباد ہے اور ان کا اکاؤنٹ بنک آف پنجاب میں ہے ہم جیسے بوڑھے لوگوں کو ہر ماہ چیک وصول کرنے کے لئے این پی ٹی کے مقامی دفتر میکلوڈ روڈ جانا ہوتا ہے،میں تو ہر تین ماہ کے بعد جاتا ہوں کہ چیک آ جائیں تو کہیں بھاگ نہیں جائیں گے،اس مشقت سے بچنے کے لئے ہم پنشنروں نے کئی بار تجویز کیا کہ این پی ٹی آفس والے ہمارے ان اکاؤنٹس میں پنشن بھیج دیں جو پہلے سے موجود ہیں، لیکن دفتر والے مصر رہے کہ ایسا جب ممکن ہو گا جب ہر پنشنر بنک آف پنجاب میں اکاؤنٹ کھلوا کر وہ نمبر دفتر کو بھیجے۔گذشتہ کچھ دِنوں سے ہم نے یہ تجویز کیا کہ آج کا دور آن لائن کا ہے اس لئے ہم اپنے اپنے بنک اکاؤنٹ کے نمبر بھیج دیتے ہیں، مرکزی دفتر والے ماہانہ ایک چٹھی کے ذریعے بنک آف پنجاب کی اپنی برانچ کو فہرست بھیج کر ہدایت کریں کہ رقم وہاں بھیج دی جائے لیکن وہ نہیں مانے اور اب باقاعدہ ایک حکم کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ بنک آف پنجاب کا اکاؤنٹ نمبر بھیجا جائے گا تو ستمبر کی پنشن آن لائن ٹرانسفر ہو گی۔بقول این پی ٹی یہ سب پنشنروں کی سہولت کے لئے ہے اور یہ سہولت یوں دستیاب ہو گی کہ پہلے بوڑھے لوگ اپنے اپنے علاقے میں بنک آف پنجاب کی برانچ میں حاضر ہو کر اکاؤنٹ کھلوانے کے مراحل سے گذریں اور یہ تفصیل دفتر کو دیں گے تو پنشن آن لائن آ جائے گی۔اب کوئی یہ بتائے کہ اگر آن لائن ہی ٹرانزیکشن ہونا ہے تو پھر بنک آف پنجاب بلیو ایریا اسلام آباد سے براہ راست پنشنر کے اس اکاؤنٹ میں کیوں نہیں ہو سکتی جو پہلے سے موجود کسی دوسرے بنک میں ہے،کیا یہ ڈیجیٹل نظام سے اغماض والی بات نہیں کہ دفتر ہر ماہ بنک آف پنجاب کو ایڈوائس بھیجے گا اور وہ برانچ دیگر برانچوں میں پنشنر کو یہ پنشن بھیجے گی تو ایسا دوسرے اکاؤنٹ کے لئے کیوں نہیں؟ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات اگر پنشن لینا ہے تو ایسا کرنا ہو گا اور پھر وصولی بھی وہاں ہی سے ہو گی،مجھ تو یہی سمجھ آئی کہ ہم سائنس کی اس سہولت سے بھی پوری طرح مستفید نہیں ہونا چاہتے۔

یہ تفصیل تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، لیکن آج چیک وصول کرنے سے قبل جو تجربہ اس جدید آن لائن نظام کا ہوا،اس نے اس یقین کو پختہ کر دیا ہے کہ ہم ابھی نوآموز ہیں اور ”گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں“ کے مصداق اب ہم بھی گر گر کر ہی سنبھلیں گے۔ہم نے چیک کی وصولی کے لئے اپنی بہو کی پرانی گاڑی کا سہارا لیا اور برادرم آصف نے ڈرائیونگ کے فرائض سنبھال لئے،اب ہم سابقہ روزنامہ مشرق پلازہ کے سامنے پہنچ کر رُک گئے، گاڑی سٹارٹ رہی کہ گرمی کا موسم ہے، ہم اس لئے بھی گاڑی میں موجود رہے کہ اگر کسی ضرورت یا حالات کے تحت آگے پیچھے کرنا مقصود ہو تو ایسا ممکن ہو،لیکن یہی ہماری کوتاہی تھی،ابھی میں دفتر والوں کو فون کر کے یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ ہم نیچے کھڑے ہیں وہ اپنے ہیلپر (خان صاحب) کے ذریعے چیک بھیج دیں۔بات نہیں ہو پائی تھی کہ ایک وارڈن صاحب تشریف لائے اور انہوں نے آصف سے لائسنس مانگا جو اس نے بلا عذر دے دیا، وہ جوان لائسنس لے کر اگلی طرف روانہ ہو گیا،جہاں ایک دوسرے صاحب موٹر سائیکل والوں کے کوائف سے آگاہی حاصل کر رہے تھے۔آصف نے متعلقہ وارڈن سے لائسنس واپس مانگا اور پوچھا کہ اگر اس نے دیکھ لیا ہے تو واپس کر دے۔ لیکن وہ صاحب ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔ جب اصرار کیا اور جرم پوچھا تو نوجوان پھر بھی خاموشی سے دوسری طرف چلا گیا،مجبوراً مجھے گاڑی سے اترنا پڑا اور محترم سے گذارش کی کہ لائسنس واپس کر دے یا وجہ بتائے، خیریت ہوئی کہ اتنے میں ان کے افسر جو سب انسپکٹر رینک کے ہیں اور ان کے سینے پر نام کی تختی موجود تھی۔ ان وارڈن سب انسپکٹر کا اسم گرامی سہیل تھا،ان کی آمد پر میں نے ان سے سبب پوچھا تو انہوں نے جرم نہ بتایا صرف اتنا کہا کہ سیف سٹی کے کیمرے نے تصویر لے لی ہے،میں آپ کو سلپ دیتا ہوں،آپ چالان کی ادائیگی کے بعد لائسنس لے لیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ حضرات ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے اس کام میں مصروف ہیں اور یوں سرکار کے لئے کلیکشن کر رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ یہ سوال کہ ہم کیا کر رہے ہیں،آپ نہیں کر سکتے کہ ہم ہر دو کام کر رہے ہیں۔بہرحال وہ مہذب انسان ثابت ہوئے،ہماری گفتگو بھی مہذبانہ تھی۔ میری عرض یہی تھی کہ جرم بتائے بغیر یکایک چالان تو عجیب بات ہے۔بہرحال مرتا کیا نہ کرتا عرض کیا،آپ چالان کر کے ہمیں گھر بھجوا دیں،ہم ادا کر دیں گے کہ اس وقت ہمارے پاس 2300 روپے کی رقم نہیں، ان کا اصرار تھا کہ ادائیگی ہو گی تو لائسنس ملے گا۔ بہرحال میں نے عرض کیا کہ سیف سٹی کیمرے کا مقصد بھی تو یہی ہے کہ کسی شہری کا بھی وقت ضائع نہ ہو، چالان گھر چلا جائے تو ادائیگی کرنا ہی ہوتی ہے،ان کا استدلال تھا کہ لوگ ایسا نہیں کرتے اس لئے ہم پر بھی یہ ذمہ داری ہے،میں نے پھر عرض کیا یہ تو جگا ٹیکس جیسی کیفیت ہے اگر کسی کے پاس پیسے نہیں تو اس کی گاڑی کیوں بند کی جائے۔ بہرحال میں بڑی مشکل سے ان کو قائل کر سکا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ انہوں نے بتایا ہے۔ البتہ یہ احساس ہوتا ہے کہ الزام غلط پارکنگ کا ہے جبکہ ہم گاڑی میں ہیں اور گاڑی سٹارٹ بھی ہے اگر اشارہ کیا جائے تو گاڑی آگے بڑھائی جا سکتی ہے، محترم نے مہربانی کی لائسنس تو واپس کر دیا،کوئی چٹ بھی نہ دی، اب یہ معلوم نہیں کہ چالان گھر آتا ہے یا معافی؟

تو میں نے یہ گذارش کی کہ ہم نے اس جدت کو بھی شکست دینے کی قسم کھا لی ہے۔وارڈن حضرات سارا دن چوراہوں کے ایک طرف شہریوں کو غلطی کا موقع دیتے اور پھر چالان کے ذریعے رقوم اکٹھی کرتے ہیں۔شاید ان کی تنخواہوں کا دارو مدار اس پر ہے،ٹریفک کی کسے فکر کہ وہ تو چلتی رہے گی، سیف سٹی کے کیمرے بھی کام کرتے رہیں گے،حالانکہ اگر یہ وارڈن حضرات چوراہوں پر ہوں اور توجہ دیں تو صرف ان کی موجودگی غلطی سے رکنے کا سبب بن سکتی ہے۔ براہ کرم اب مصنوعی ذہانت کا زمانہ ہے، آپ تو ابتداء ہی کو شکست دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں