ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، ٹرمپ کے اقدامات خطے کو آگ لگا سکتے ہیں: ایرانی صدر

نیویارک / تہران(این بی سی / واشنگٹن پوسٹ / رائٹرز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پورے مشرقِ وسطیٰ خطے کو آگ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی مگر کسی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے نیویارک کے دورے کے دوران امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نائٹلی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں سے خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا:

’’ہم جنگ سے نہیں ڈرتے۔ صدر ٹرمپ امن کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا راستہ خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔‘‘

پزشکیان نے کہا کہ جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران انہیں بھی زخم آئے تھے، جبکہ سینئر فوجی رہنماؤں، سائنسدانوں اور سیکڑوں ایرانی شہریوں کی جانیں گئیں، اسرائیل میں بھی درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم موت یا شہادت سے خوف زدہ نہیں، ہم اپنی زندگیاں جی چکے ہیں۔‘‘

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران ایک زیرِ زمین ایٹمی تنصیب پر کام بڑھا رہا ہے۔صدر پزشکیان نے جواب دیا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے:

’’اگر وہ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو زمین پر آ کر دیکھیں، صرف سیٹلائٹ تصاویر پر کہانیاں گھڑنا درست نہیں۔‘‘

دوسری جانب، رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکا سے اپنے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل یا یورینیم افزودگی پر براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن ہے، تاہم سخت گیر ارکانِ پارلیمنٹ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران اس وقت یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ کر رہا ہے، جو دنیا میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

جمعہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کی ایک قرارداد پر ووٹ متوقع ہے، جس میں ایران پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو مؤخر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہفتے کے اختتام کے بعد یہ پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔

ایرانی صدر کے بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں