برامپٹن (نمائندہ خصوصی)برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے برمپٹن سٹی ہال میں پانچویں سالانہ عالمی ذیابطیس کے دن پرچم کشائی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں وفاقی، بلدیاتی و کمیونٹی رہنماؤں، مقامی تنظیموں اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد ذیابطیس کی آگاہی، روک تھام، علاج اور تحقیق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔
تقریب کے دوران نیلے دائرے والا پرچم جو دنیا بھر میں ذیابطیس آگاہی کی علامت سمجھا جاتا ہے بلند کیا گیا، تاکہ اُن لاکھوں کینیڈین شہریوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی جا سکے جو ذیابطیس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

ایم پی سونیا سدھو، جو قومی سطح پر ذیابطیس کیخلاف جدوجہد کی نمایاں رہنما سمجھی جاتی ہیں، نے 2021 میں بل C-237 (قومی ڈائیبیٹیز فریم ورک کے قیام سے متعلق قانون) پیش کیا تھا، جس کی منظوری کے بعد کینیڈا کی تاریخ میں پہلی بار ذیابطیس سے متعلق ایک جامع قومی حکمتِ عملی ترتیب دی گئی۔
اسی قانون نے بعد ازاں نیشنل فارما کیئر پروگرام کی راہ ہموار کی، جس کے تحت ذیابطیس کے علاج کیلئےضروری ادویات اور آلات اب تمام کینیڈین شہریوں کو مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
اپنے خطاب میں سونیا سدھو نے کہا”ورلڈ ڈائیبیٹیز ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم متحد ہو جائیں تو ذیابطیس سے متاثرہ لاکھوں کینیڈینز کے لیے حقیقی فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ آج جب ہم نیلا پرچم بلند کر رہے ہیں تو دراصل ہم امید، آگاہی اور ایک صحت مند مستقبل کے عزم کو بلند کر رہے ہیں۔”
واضح رہے کہ ورلڈ ڈائیبیٹیز ڈے ہر سال 14 نومبر کو منایا جاتا ہے، جو سر فریڈرک بینٹنگ انسولین کے کینیڈین دریافت کنندہ کی سالگرہ کے دن کی مناسبت سے منسوب ہے۔صحت کے ماہرین کے مطابق سونیا سدھو کی یہ مہم ذیابطیس کے خلاف قومی بیداری کا ایک اہم قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تقریبات نہ صرف آگاہی بڑھاتی ہیں بلکہ نوجوان نسل میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں، جو مستقبل میں ذیابطیس کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔

