سوشل میڈیا کے افق پر اکثر یہ نوحہ خوانی سنائی دیتی ہے کہ کتابوں سے رشتہ کمزور ہو چکا ہے، اور قرطاس و قلم کی یہ میراث شاید عنقریب تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ لائبریریوں کی حاضری میں مسلسل کمی اور کتاب خانوں کی خاموشی، اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے۔
لیکن میرا آج کا سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی، کہیں زیادہ گہرا اور حساس ہے۔ کیا ہم اس ادبی زوال کے پیش خیمہ کو محسوس کر رہے ہیں جہاں تخلیق کی روح خود کمپیوٹر یعنی مصنوعی ذہانت کی غلام ہو جائے گی؟ آج کے دور میں کیا لکھا جا رہا ہے؟ اور اس کی ادبی قدر و قیمت کیا ہے؟
ایک وہ عہد تھا جب تخلیقی فنکار، خواہ وہ شاعر ہوں یا ادیب، برسوں کی ریاضتِ فکر اور عرق ریزی کے بعد ایک شہ پارہ تخلیق کرتے تھے۔ ان کی کاوشیں محض الفاظ کا گورکھ دھندا نہ تھیں، بلکہ ان کے ذاتی تجربات، مشاہداتِ حیات، اور قلبی واردات کا جوہر تھیں۔ ہر سطر میں فکری بصیرت کی گہرائی، لسانی چابکدستی کی ندرت، اور اسلوب کا پختہ پن جلوہ گر ہوتا تھا۔ یہ تخلیقات زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہو کر وقت کی کسوٹی پر کھری اترتیں اور نسل در نسل دلوں کو منور کرتی تھیں۔
سوشل میڈیا کی یلغار اور ادبی بدعت
پھر سوشل میڈیا کی یلغار ہوئی، جس نے ادبی منظر نامے پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ یہ مجازی دنیا جہاں ایک طرف ہر فرد کو اظہارِ رائے کی آزادی سے آشنا کر گئی، وہیں دوسری طرف غیر معیاری مواد کی بے تحاشا پیداوار کا سبب بھی بنی۔ ایک عجیب رجحان پروان چڑھا جہاں لوگ بلا تصدیق، الٹی سیدھی تحریریں اور فن و وزن کی قید سے مبرا اشعار کسی مشہور شاعر، ادیب، یا دانشور کے نام سے منسوب کر کے پوسٹ کرنے لگے۔ چونکہ سوشل میڈیا کی فطرت ہی ہر آنے والی چیز کو بے چون و چرا آگے بڑھانے کی ہے، ایسی جعلی پوسٹیں بھی کسی بڑے نام کی آڑ میں برق رفتاری سے وائرل ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک لطیف پہلو یہ بھی قرار دیا گیا کہ کسی شاعر، ادیب، یا دانشور کے مستند اور مقبول ہونے کی سند بس اتنی ہے کہ اس کے نام سے جعلی پوسٹ بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے۔
تاہم، سچے ادیبوں اور شعراء کے حقیقی قاری اور مطالعہ کرنے والے افراد، جن کی نگاہِ بصیرت ادب کے جوہر کو پہچانتی ہے، ایسی جعلی پوسٹس کو فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ ان میں سے چند دردمند لوگ تو ایسے مواد کی تردید کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود ان جعلی پوسٹس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ یہ جعلی مواد کی پیداوار کو مزید توانائی فراہم کرتا ہے اور حقیقی ادب کی قدر و منزلت کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نوآموز قارئین کے لیے اصلی اور نقلی ادب میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور مجموعی طور پر ادبی ذوق کی آبیاری متاثر ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد اور تخلیقی ادب کا گورکھ دھندہ
اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا دور دراز افق سے ابھرتا ہوا سایہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ فی الحال، یہ ٹیکنالوجی ہمارے موجودہ تخلیقی ذخیرے سے فیض حاصل کر رہی ہے اور سیکھنے کے ایک تیز رفتار عمل سے گزر رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ کمپیوٹر کا سیکھنے کا عمل انتہائی سریع رفتار ہے اور وقت کے ساتھ اس میں مزید تیزی آتی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں مصنوعی ذہانت نے محض سیکھنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر نقل کرنے میں غیر معمولی مہارت حاصل کر لی ہے۔
حال ہی میں پاکستان میں کیا گیا ایک دلچسپ تجربہ اس حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس تجربے میں ایک پروفیسر صاحبہ نے مصنوعی ذہانت کو مختلف مشہور شعراء کے نام پیش کئے اور اسے ان شعراء کے مخصوص اسلوب میں شاعری لکھنے کا حکم دیا۔ کمپیوٹر نے ان شعراء کے موضوعات کے چناؤ، لسانی انداز، الفاظ کے انتخاب و استعمال، اور بیان کی مخصوص روش کی ہوبہو نقل کرتے ہوئے نظمیں تخلیق کیں۔ پروفیسر صاحبہ نے یہ نظمیں اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیں. ان پوسٹ پر لوگوں کے تبصرے حیرت زدہ کر دینے والے تھے۔ حیران کن طور پر، اکثر پڑھنے والے ان نقلی نظموں کو پہچان ہی نہیں پائے، اور انہیں حقیقی تخلیقات سمجھا۔ تجربہ کے اختتام پر پروفیسر صاحبہ نے واضح الفاظ میں بیان کردیا کہ یہ صرف ایک تجربہ تھا اور یہ نظمیں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے لکھی گئی تھیں۔
یہاں پر یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت مصنوعی ذہانت کے کئی سافٹ وئیرز (جیسے ChatGPT, Grok, Gemini, Copilot, Claude وغیرہ) میدانِ عمل میں ہیں۔ یہ تمام سافٹ وئیرز مختلف ذرائع سے ادبی مواد حاصل کرتے اور اس کا “مطالعہ” کرتے رہتے ہیں، ان ذرائع میں جس مستند ادبی تخلیقات کے علاوہ سوشل میڈیا کی پوسٹیں بھی شامل ہیں۔ اس عمل میں وہ بعض اوقات جعلی پوسٹس کو بھی اصل ادبی مواد سمجھ کر جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ممکنہ خطرہ ہے کہ کچھ عرصے بعد جب مصنوعی ذہانت ان تجرباتی پوسٹس کو پڑھے گی تو انہیں ان شعراء کی حقیقی تخلیقات سمجھ کر ازبر کر لے گی، اور آئندہ انہیں حوالے کے لیے استعمال کرے گی۔
فی الحال، مصنوعی ذہانت محض اسلوب اور بیان کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اگلا قدم ایسے مکمل ادبی پارے تخلیق کرنے کا ہوگا جو نہ صرف اسلوب کی نقل کریں گے بلکہ فکری مضامین، جذباتی کیفیات، اور انسانی تجربات کو بھی اسی گہرائی سے پیش کر سکیں گے جس طرح ایک انسانی ادیب کرتا ہے۔
کیا تخلیقی ادب کا سورج غروب ہو رہا ہے؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مصنوعی ذہانت خودکار طریقے سے تخلیقی ادب پیدا کرنے لگے گی تو شعر و ادب کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کو کم کر دے گی، اسے بے معنی بنا دے گی؟ یا یہ ایک نیا تخلیقی افق وا کرے گی جہاں انسان اور مشین مل کر ادب کی ایسی نئی شکلیں تخلیق کریں گے جو آج ہمارے تصور میں بھی نہیں ہیں؟
ہم اس وقت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی ادب کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہوگی یا ایک مددگار آلہ۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اس نئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اس کے مثبت استعمال کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے تاکہ تخلیقی ادب کی اہمیت اور اس کی روح کو برقرار رکھا جا سکے۔
کیا ہم واقعی تخلیقی ادب کی آخری دہائی میں سانس لے رہے ہیں، یا یہ ایک نئے تخلیقی انقلاب کا پیش خیمہ ہے جو انسانی فکر و فن کو ایک نئی سمت دے گا؟. آپ اپنی اصلی انسانی سوچ اور رائے سے کمنٹس دے کر ہماری رہنمائی فرمائیں.

