اسلام آباد (نامہ نگار) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیکرز نے مختلف اراکینِ پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے سے محروم کر دیا ہے۔
اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم کی زیرِ صدارت جاری ہے۔ دورانِ اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انکشاف کیا کہ ہیکرز کا ایک منظم گروہ صرف پانچ یا ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرتا ہے اور مخصوص طریقے سے رقم نکلوا لیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہیکرز نے سینیٹر دلاور خان کے بینک اکاؤنٹ سے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے نکال لیے جبکہ سینیٹر فلک ناز چترالی سے دو قسطوں میں پانچ لاکھ روپے کا فراڈ کیا گیا۔
سینیٹر فلک ناز نے کمیٹی کو بتایا کہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کے نام پر کال کے ذریعے دھوکہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیکرز کے پاس ان کے خاندان، بچوں اور نجی زندگی سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اراکینِ کمیٹی نے انکشافات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے موجودہ نظام کو ازسرِ نو مؤثر بنانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے فراڈ روکے جا سکیں۔

