استنبول (اے ایف پی/نمائندہ خصوصی) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے واضح اعلان کیا ہے کہ یروشلم کی زیرِ زمین سرنگ سے دریافت ہونے والی قیمتی تاریخی ’سلوان کتبہ‘ اسرائیل کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ یہ اعلان اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے حالیہ بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اس کتبے کی واپسی کیلئےسابقہ کوششوں کا ذکر کیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ عبرانی تختی تقریباً 2700 سال پرانی ہے اور اس وقت استنبول کے آثارِ قدیمہ کے میوزیم میں محفوظ ہے۔ اردوان نے کہا کہ ’’یہ ہمارے آبا و اجداد کی میراث ہے، ہم تمہیں یہ کتبہ نہیں دیں گے، یروشلم کی ایک کنکری بھی نہیں دیں گے۔‘‘
صدر اردوان نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ ترکیہ کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں کیونکہ ترکیہ نے یہ تاریخی نوادرات واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم تمام انسانیت اور مسلمانوں کی عزت اور وقار کی علامت ہے اور ترکیہ اپنی میراث کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ چونے کے پتھر کی تختی 1880 میں شیلواح سرنگ میں دریافت ہوئی تھی، جب یروشلم عثمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ اسے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) منتقل کیا گیا جہاں آج تک محفوظ ہے۔
اسرائیل اس کتبے کو یروشلم میں یہودی موجودگی کے تاریخی ثبوت کے طور پر دیکھتا ہے اور برسوں سے اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیر کو مشرقی یروشلم کے فلسطینی علاقے سلوان میں قدیم سڑک کے افتتاح پر نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کتبہ مردہ سمندر کے صحیفوں کے بعد اسرائیل کی سب سے اہم آثارِ قدیمہ کی دریافتوں میں سے ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 1998 میں انہوں نے اُس وقت کے ترک وزیراعظم مسعود یلماز کو پیشکش کی تھی کہ بڑی تعداد میں عثمانی نوادرات کے بدلے یہ کتبہ اسرائیل کو دے دیا جائے، لیکن ترک حکام نے انکار کر دیا کیونکہ اُس وقت استنبول کے میئر اردوان کی سربراہی میں اسلام پسند حلقے مشتعل ہو سکتے تھے۔
” تاریخی پس منظر: سلوان کتبہ”
سلوان کتبہ (Siloam Inscription) انیسویں صدی کے آخر میں شیلواح سرنگ کے اندر دریافت ہوئی تھی، جو یروشلم کے نیچے ایک قدیم آبی نہر ہے۔ یہ چونے کے پتھر کی تختی ہے، جس پر سرنگ کی تعمیر کا ذکر کندہ ہے۔اسے 1880 میں اس وقت کے عثمانی حکام نے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) منتقل کیا، جہاں آج تک آثارِ قدیمہ کے میوزیم میں محفوظ ہے۔
یہ کتبہ نہ صرف آثارِ قدیمہ کی ایک قیمتی دریافت ہے بلکہ بائبلی مطالعات میں بھی اہم مقام رکھتا ہے، کیونکہ اس پر کندہ تحریر عبرانی زبان کی قدیم ترین مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔اسرائیل اسے یروشلم میں یہودی موجودگی کے شواہد کے طور پر پیش کرتا ہے، ترکیہ اسے عثمانی سلطنت کی دریافت اور اپنی قومی وراثت قرار دیتا ہے۔

