یمن: حوثیوں کا صنعا اور الحدیدہ میں یو این دفاتر پر چھاپہ، 11 اہلکار حراست میں

صنعا (رائٹرز) – یمنی حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور بندرگاہی شہر الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپے مار کر کم از کم 11 یو این اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے زبردستی عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے دفتر میں داخل ہو کر املاک ضبط کیں۔

دارالحکومت میں دیگر یو این دفاتر پر بھی قبضے کی کوشش کی گئی۔یمن کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کے مطابق اہلکاروں کو صنعا اور الحدیدہ سے گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاریاں ان 23 یو این اہلکاروں کے علاوہ ہیں جو پہلے ہی حوثیوں کی قید میں ہیں۔ان میں سے کچھ 2021 سے حراست میں ہیں، جبکہ ایک اہلکار رواں برس دورانِ قید ہلاک بھی ہوا۔

چھاپے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد مارے گئے، جس میں حوثی حکومت کے وزیراعظم احمد غالب الرحاوی اور کئی وزرا ہلاک ہوئے۔حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے وزرا کی ہلاکت کی تصدیق کی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ فضائی حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ گروہ کے اعلیٰ فوجی و سیاسی رہنما تھے۔

اقوام متحدہ کے متعدد ادارے جیسے یونیسف، یو این ڈی پی اور یو این ایچ سی آر ان شہروں میں کام کر رہے ہیں۔حوثیوں کے تازہ اقدامات نے یمن میں جاری انسانی بحران پر مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں