یوریشین فورم میں روسی وزیر خارجہ کی بھارت پر تنقید، پاکستانی مؤقف کی گونج

پرم، روس(نامہ نگار) یوریشین فورم 2025 کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھارت کی مغرب نواز اتحادوں میں شمولیت، خصوصاً ’کواڈ‘ اور ’انڈو-پیسفک اسٹریٹیجی‘ پر شدید تنقید کی جس سے کانفرنس میں شریک بھارتی وفد حیرت اور خفت کا شکار ہوگیا۔

اپنے اہم پالیسی خطاب میں لاروف نے واضح الفاظ میں کہا کہ “ایسا کوئی انڈو-پیسفک وجود نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک مصنوعی تصور ہے جسے نیٹو نے چین مخالف عزائم کے تحت فروغ دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی کواڈ میں شمولیت بظاہر اقتصادی ہے، لیکن عملی طور پر یہ اتحاد مسلسل مشترکہ بحری مشقوں میں مصروف ہے۔

یہ تبصرہ اس وقت آیا جب بی جے پی کے تین ارکان پر مشتمل 12 رکنی بھارتی وفد بھی فورم میں موجود تھا۔ روسی وزیر خارجہ کے کلمات پر بھارتی وفد خاموش اور ساکت نظر آیا۔

اس موقع پر افغانستان کے تناظر میں بھی نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لاروف نے کہا کہ “چار سال قبل شرمناک انخلا کے بعد نیٹو ایک بار پھر افغانستان میں داخل ہونے کے راستے تلاش کر رہا ہے”۔

فورم کے آغاز سے قبل پاکستان کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے سرگئی لاروف سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں انہوں نے حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران روس کے مثبت اور غیرجانبدار کردار پر شکریہ ادا کیا۔ یہ ملاقات تقریباً 40 منٹ جاری رہی اور اس میں دیگر نمایاں ایشیائی سیاستدانوں بشمول چین، ترکیہ، جنوبی کوریا اور کمبوڈیا کے رہنما بھی شامل تھے۔

سینیٹر مشاہد حسین کو روسی وزارت خارجہ اور حکمران جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ کی خصوصی دعوت پر یوریشین فورم میں کلیدی خطاب کیلئےمدعو کیا گیا، جہاں 25 یوریشیائی ممالک کے 100 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین نے صدر ولادیمیر پیوٹن کے “یوریشین سیکیورٹی اقدام” کو سراہتے ہوئے اسے صدر شی جن پنگ کے “گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو” اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے ہم آہنگ قرار دیا۔ انہوں نے ’ایشیائی نیٹو‘ اور ’انڈو-پیسفک اسٹریٹیجی‘ کے تصورات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی تعلقات کی عسکریت پسندی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال یوریشیا کی تعمیرکیلئے چین اور روس کے ساتھ مساوی شراکت دار کے طور پر کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے صدر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کو “دو مضبوط اور وژنری رہنما” قرار دیا جو خطے میں امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں