یونان سے غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری جاری

ایتھنز(نمائندہ خالد مغل)یونان کی ہیلینک پولیس نے یورپی بارڈر ایجنسی “فرونٹیکس” کے اشتراک سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے 40 پاکستانی اور 10 جارجیائی شہریوں کو ملک بدر کر دیا۔ ان افراد کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ یونان کی وزارتِ مہاجرین کا کہنا ہے کہ صرف مستحقین کو پناہ دی جاتی ہے، باقیوں کے لیے وطن واپسی یا نظربندی واحد راستہ ہے۔

یونان سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں ہیلینک پولیس اور یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی “فرونٹیکس” کے تعاون سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے 40 پاکستانی اور 10 جارجیائی شہریوں کو ان کے وطنوں کو واپس بھیجا گیا۔

یونانی وزارتِ مہاجرین اور پناہ کے وزیر نے اس موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا”یونان ایک سخت مگر منصفانہ ہجرت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ ہم صرف انہی کو پناہ دیتے ہیں جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔ باقی افراد کیلئے واپسی یا نظربندی ہی راستہ ہے۔”

یاد رہے کہ پاکستان کو یونان کی محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے دی گئی پناہ کی درخواستیں اکثر مسترد کر دی جاتی ہیں۔

ملک بدر کئے جانے والے پاکستانی شہریوں نے یونان میں بین الاقوامی تحفظ کی درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں تھیں۔ذرائع کے مطابق یہ افراد معاشی مجبوریوں کے باعث پاکستان سے یونان آئے تھے، جن میں اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب کے چند مخصوص علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں