یوکرین میں جنگ کے دوران نئی وزیراعظم یولیا سویریدینکو کا تقررکردیا گیا

کیف(نیٹ نیوز)روس کے ساتھ جاری جنگ کے نازک حالات میں یوکرین نے پانچ سال بعد نئی وزیراعظم یولیا سویریدینکو کا تقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب محاذِ جنگ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت گہرے بحران سے دوچار ہے۔

39 سالہ سویریدینکو کو صدر وولودومیر زیلنسکی نے یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ مقامی اسلحہ سازی کو تیز کریں، فوجی رسد کو یقینی بنائیں، اور قرضوں پر انحصار کرتی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کریں۔

پارلیمنٹ سے خطاب میں صدر زیلنسکی نے کہا”ہماری توقع ہے کہ آئندہ 6 ماہ میں مقامی ہتھیاروں کی شراکت 40 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد ہو جائے۔”انہوں نے قوانین میں نرمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اتحادی ممالک سے اقتصادی تعاون میں وسعت کو بھی حکومتی پالیسی کا مرکزی حصہ قرار دیا۔

وزیراعظم یولیا سویریدینکو نے کہا”جنگ میں تاخیر کی گنجائش نہیں، ہماری اولین ترجیحات میں دفاعی صنعت کی مضبوطی، تیز فیصلے، اور معیشت کو سنبھالنا شامل ہیں۔”انہوں نے عوامی مالیات کے آڈٹ اور بڑے پیمانے پر نجکاری کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔

سابق وزیراعظم ڈینیس شمیہال، جو سب سے طویل عرصے تک یہ عہدہ نبھاتے رہے، کو وزیر دفاع مقرر کر دیا گیا ہے۔ دیگر اہم تقرریوں میں لانا گرینچک: وزیر توانائی،الیگسی سوبولیف: وزیر معیشت، ماحولیات و زراعت،تاراس کاچکا: یورپی انضمام کیلئےنائب وزیراعظم شامل ہیں.

ڈینیس شمیہال نے کہا”یہ آزمودہ ٹیم ہے، نئے چیلنجز اور ذمہ داریاں درپیش ہیں۔”روسی افواج 1000 کلومیٹر طویل محاذ پر پیش قدمی کر رہی ہیں اور یوکرینی شہروں پر حملے تیز ہو چکے ہیں۔یوکرین، دفاعی صنعت کو مضبوط بنا کر روس کی بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ غیر ملکی امداد میں کمی اور 19 ارب ڈالر کے ممکنہ بجٹ خسارے کے باعث مالی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اگرچہ تقرری کو انتظامی بہتری کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی آزادی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ہولوس پارٹی کے رکن یاروسلاو زھیلیزنیاک نے کہا”اصل فیصلے صدر کے دفتر سے آئیں گے، وزیراعظم آزاد حیثیت سے نہیں چل سکیں گی۔”

یوکرین کی نئی حکومت نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ اقتصادی و سیاسی محاذ پر بھی کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ یولیا سویریدینکو کا تقرر اصلاحاتی رفتار کو تیز کرنے اور جنگی حالات میں نظم و نسق مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم داخلی خودمختاری اور غیر ملکی امداد کی کمی سب سے بڑے چیلنج بن کر سامنے کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں