کارروائی کے بارے میں فیصلہ حکومتی سطح پر ہوگا
فیلڈ مارشل نے سری لنکا ٹیم کو قیام پر قائل کیا:محسن نقوی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کے اندر کارروائی سے متعلق فیصلہ حکومتی سطح پر کیا جائے گا، کیونکہ “یہ ممکن نہیں کہ افغانستان سے حملے ہوں اور ہم خاموش رہیں۔”
محسن نقوی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونیوالی بات چیت میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم نے اسلام آباد میں قیام کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے خود سری لنکا کے وزیرِ دفاع سے رابطہ کیا، انہیں قائل کیا اور مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ نے گزشتہ رات دیر گئے اعلان کیا کہ ان کی ٹیم کا پاکستان کا دورہ حسبِ معمول جاری رہے گا، جس سے ایک ممکنہ بحران ٹل گیا۔
محسن نقوی نے یاد دلایا کہ اسلام آباد خودکش دھماکے کے بعد سری لنکن ٹیم نے وطن واپسی پر غور کیا تھا، تاہم حکومت پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے بروقت رابطوں سے معاملہ سلجھ گیا۔”ہم نے ان کے بورڈکھلاڑیوں اور انتظامیہ سے بات کی انہوں نے بڑے حوصلے سے یہاں رکنے کا فیصلہ کیا۔”
یاد رہے کہ اسلام آباد کے خودکش دھماکے کے بعد سری لنکن کھلاڑیوں نے سیکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم سری لنکن ٹیم کے منیجر نے بعد میں اس بات کی تردید کی کہ کھلاڑی وطن واپس جارہے ہیں۔
“افغانستان سے حملوں پر سخت مؤقف”
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ وانا کیڈیٹ کالج اور اسلام آباد دھماکوں میں ملوث حملہ آور افغان شہری تھے۔جب صحافی نے سوال کیا کہ “کیا افغانستان کے اندر کارروائی کی جائے گی؟”
تو محسن نقوی نے دوٹوک جواب دیا”اس پر حکومتی سطح پر فیصلہ کریں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حملے کریں اور ہم چپ بیٹھ جائیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہم سری لنکن صدر، حکومت، کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان پر اعتماد کیا اور یہاں قیام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر داخلہ کا یہ بیان پاکستان کے افغان پالیسی مؤقف میں ایک نئے سخت موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد حکومت کا ردِعمل واضح طور پر سیکیورٹی ترجیحات میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں افغان سرحدی پالیسی پر نظرِثانی متوقع ہے۔

