کراچی (نمائندہ خصوصی)خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرارداد پیش اور منظور کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی، ایک صوبہ ایسا رویہ اختیار کر رہا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہو۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں مگر ملک ایک اہم موڑ پر داخل ہو چکا ہے اور اب ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی اسمبلی پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور کر سکتی ہے؟ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام اور تمام مکاتبِ فکر سے سوال ہے کہ جو سب سے زیادہ ٹیکس دے، کیا اسے اختیار نہیں ملنا چاہیے؟
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کے حصے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے اور ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ 170 نشستیں لینے والا جیل میں اور 80 نشستیں لینے والا حکومت میں ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ان کے بقول جعلی مردم شماری کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کسی صوبے کے لیے انصاف نہیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کر کے شریکِ جرم بنی ہے، حافظ نعیم سے پوچھا جائے کیا وہ سندھو دیش کے حامی ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حمایت کرتی ہے مگر سندھ میں مخالفت کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے مگر گزشتہ 50 برس سے شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق غربت میں سب سے زیادہ اضافہ سندھ میں ہوا۔
خالد مقبول صدیقی نے مطالبہ کیا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے، اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 239 نئے صوبوں کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 140 اے پورے ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے اور انصاف ہی امن کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو سات اضلاع میں تقسیم کیا گیا، پیپلز پارٹی پہلے ہی شہر کو ٹکڑوں میں بانٹ چکی ہے۔ آرٹیکل 48 کی شق 6 ریفرنڈم کی اجازت دیتی ہے جبکہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہیں کر رہی، ہم دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔ مردم شماری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کو 37 فیصد کم ظاہر کیا گیا جبکہ صدر اور سابق چیف جسٹس بھی اس شہر کی آبادی چار کروڑ بتا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ کوٹہ سسٹم 72 برس قبل نافذ کیا گیا مگر اس سے کبھی کسی ہاری کو تعلیم نہیں ملی۔ ان کے مطابق وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے جن میں سے نصف کراچی کو ملنے چاہئیں تھے، مگر یہ وسائل درست انداز میں استعمال نہیں ہوئے۔

