پاکستان میں ملک کی دونوں سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے جا رہی ہیں اور پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن اسی حکومت کے ماتحت ادارے پاپولیشن کونسل پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNFPA کے زیر اہتمام ہونے والی ورکشاپ میں سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر اور پاکستان کی ترقی کے سب سے بڑے دعویدار وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مصدق ملک نے جو کہا وہ ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر رہا بلکہ نفی کر رہا ہے۔ملک کے مختلف اضلاع کے رہائشیوں کے حالات کی جو تصویر وہ دکھا رہے اور بیان کر رہے ہیں وہ کسی تیزی سے ترقی کرتے ملک کے نہیں ہو سکتے جو ہمیں صبح شام بتایا جاتا ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کے مطابق ملک کے 40اضلاع پاکستان کے پسماندہ ترین اضلاع ہیں، جبکہ باقی میڈیا کے مطابق 20اضلاع بے حد پسماندہ میں شامل ہیں۔جہاں سب سے بڑے اخبار کے مطابق سوا چار کروڑ افراد صحت تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ وہیں دیگر اخبارات کے مطابق سوا کروڑ سے زائد افراد پسماندہ حالات کا شکار ہیں۔ سب سے بُرے حالات پاکستان کے دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار صوبے بلوچستان کے ہیں اور بلوچستان کے 17اضلاع میں ہیں،جو اعداد و شمار اس کانفرنس میں بیان کئے گئے، وہ رہائش، صحت، مواصلات، روزگار، ہا ؤسنگ اور آبادیات کی بنیاد پر ہیں، جس کے مطابق یہ رپورٹس ترتیب دی گئی ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس کانفرنس میں جو حصہ ڈالا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادیوں میں اضافے کی شرح 2.55ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے، مگر ہماری جی ڈی پی کی گروتھ میں اضافے کی شرح سے کم ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے 40فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ وزیر خزانہ کہنا تھا کہ ہمیں آج اپنی آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کو کنٹرول کرنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے جو لوگ اِن متاثرہ اضلاع میں رہتے ہیں ان میں سے زیادہ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔صاف پانی انہیں میسر نہیں ہے اور بچوں کی غذائی قلت کی کمی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
آج بچوں کی پیدائش میں پلاننگ لازمی ہو چکی ہے آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو کل صورتحال بہت سنگین ہوگی۔ مسلم لیگی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہماری بڑھتی آبادی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وہ 17اضلاع جنہیں پسماندہ بتایا گیا ہے ان کی آبادی ایک کروڑ ہے اور وہاں 65فیصد مکانات کچے ہیں،وہاں 50لاکھ افراد کو پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ آج پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے دو کروڑ بچوں کو سکولوں تک رسائی نہیں ہے، یعنی ان کے لئے سکول میسر نہیں ہے اور وہ سکول نہیں جا رہے۔پانچ سال کے یہ بچے جو سکول میں تعلیم سے محروم ہیں یہ کل بڑے ہوکر کیا بنیں گے؟ مصدق ملک نے ایک بات بہت اہم بات کہی ہے وہ کہتے ہیں کہ آبادی کی بنیاد پر صوبوں کو وسائل دینے سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ (شاید ان کا اشارہ اندرون سندھ کی طرف ہے کہ جہاں کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھی ہے کہ خود ”حکومتی افراد“کہتے ہیں کہ یہ فگرز حقیقی نہیں بلکہ بڑھائی گئی ہے یعنی در حقیقت اتنی آبادی نہیں ہے)۔ مصدق ملک نے ایک اور اہم بات کہی کہ ضلع اور تحصیل کونسلوں (بلدیاتی نظام)کو بااختیار کیا جائے۔ مصدق ملک نے کہا بلوچستان کے 64لاکھ، خیبرپختونخوا کے 17لاکھ 40ہزار اور سندھ کے 17لاکھ80ہزار افراد پسماندہ اضلاع میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔پاکستان پاپولیشن کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں کامیابی تبھی ممکن ہے جب ”معاشرے میں عدم مساوات کا خاتمہ“کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ آج لاکھوں افراد تک بنیادی صحت، تعلیم اور روزگار کی بنیادی سہولیات پہنچ نہیں رہی ہیں،جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ پاکستان میں جن صوبوں کو سب سے زیادہ پسماندہ قرار دیا گیا ہے ان میں بلوچستان کا صوبہ واشک، خضدار، کوہلو اور ژوب شامل ہیں،جبکہ دیگر پسماندہ اضلاع میں ماشکیل،ڈیرہ بگتی، قلعہ سیف اللہ، قلات، شیرانی، جھل مگسی، نصیر آباد، آوران، خاران، شمالی وزیرستان، پنجگور، چاغی، تھر پارکر شامل ہیں، جبکہ عمر کوٹ اور لودھراں وہ اضلاع ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہاں گزشتہ30دن سے لیڈی ہیلتھ وزیٹر میسر نہیں۔ان پسماندہ اضلاع میں 65 فیصد گھر کچے یا عارضی ڈھانچے ہیں، جبکہ ضلع جھل مگسی میں 97فیصد گھر کچے یا نیم کچے ہیں۔بلوچستان میں سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور فون سروسز کی شدید کمی ہے۔روزگار کے حوالے سے پاکستان کے 15 بدترین اضلاع بلوچی ہیں اور انہی بلوچی اضلاع کو موسمیاتی تبدیلیاں سے بھی سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ وہاں آدھے سے زیادہ گھروں میں بیت الخلاء بھی نہیں ہے۔پاکستان میں ہائیر سیکنڈری اور ہائی سکول12 کلومیٹر تک کے فاصلے پر ہے جبکہ بلوچستان میں ہائی سکول اور سیکنڈری سکول 31کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ سکول کراچی اور سب سے کم بلوچستان میں ہیں۔ملک میں بنیادی مراکز صحت کا فاصلہ 30کلومیٹر تک ہے جبکہ بلوچستان میں یہ فاصلہ 93کلومیٹر تک ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بیروزگاری اور بلا معاوضہ مزدوری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔یہ تمام اعداد و شمار پاکستان پاپولیشن کونسل کے ہیں اور ان کے سیمینار میں شرکت کرنے والے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر محمد مصدق ملک نے اپنی تقاریر میں تصدیق کی کہ یہ فگرز درست ہیں یعنی پاکستان میں حالات ایسے ہی ہیں اگر حالات ایسے ہی ہیں تو پھر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ جس ملک میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور یہ آج سے نہیں بلکہ 40سال پہلے کوئٹہ سے ایران جاتے وضو کے لئے کنوئیں سے پانی نکال کر وضو کیا تو ایسے لگا جیسے سمندر کا کھارا نمکین پانی استعمال کیا ہو تو جس بلوچستان میں 40سال میں پانی نہیں مہیا کر سکے۔ ہم ان پاکستانی شہریوں کو کیا دے رہے ہیں؟سندھ حکومت نے 14سال پہلے تھر میں آر او پلانٹ لگائے اور انہیں بجلی دینے کے لئے سولر لگایا،جو پانی یہ پمپ مہیا کر رہے تھے وہ بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ مگر صاف ستھرا پانی تھا (خود پی کر دیکھا تھا)۔ جبکہ زیر زمین وہی کڑوا پانی تھا۔ یہ کام پورے پاکستان میں جہاں یہ مسائل ہیں کیوں نہیں ہو سکتا ۔

