اسکاٹ لینڈ (خبر ایجنسیاں) اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے عوامی مقامات پر برقع اور نقاب سمیت چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ریفارم یوکے کی تجویز بھاری اکثریت سے مسترد کردی۔
4 نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں ارکان نے حکومتی ترمیم کے حق میں 92 ووٹ دیے، جبکہ 15 ارکان نے مخالفت کی اور 8 غیر حاضر رہے۔ منظور کی گئی ترمیم میں کہا گیا کہ خواتین کے لباس کے انتخاب کے حوالے سے قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام نہیں، جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کو ایسے بیانات اور اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے جو اسکاٹ لینڈ کی برادریوں میں تقسیم پیدا کریں۔
یہ تجویز ریفارم یوکے کی رکن پارلیمنٹ ہیلن میک ڈیڈ نے پیش کی تھی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عوامی مقامات پر برقع اور نقاب سمیت چہرہ مکمل ڈھانپنے والے لباس پر مزید پابندیوں کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا جائے۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ ایسی پابندیوں سے عوامی تحفظ، انفرادی آزادی اور معاشرتی ہم آہنگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
بحث کے دوران حکومتی وزیر کرسٹن اوسوالڈ نے تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خاص طور پر مسلمان خواتین کے لباس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کیا پہنیں، اس کا فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام نہیں۔ گرین پارٹی کی رکن میگی چیپمین نے بھی اس تجویز کو تنگ نظری اور مذہبی تعصب پر مبنی قرار دیا۔
دوسری جانب تجویز پیش کرنے والی ہیلن میک ڈیڈ کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے سے متعلق پابندیاں کئی یورپی ممالک میں پہلے سے موجود ہیں۔ ریفارم یوکے کے رکن تھامس کیر نے بھی برقع اور نقاب سمیت تمام چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی حمایت کی۔
پارلیمانی بحث میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ اسکاٹ لینڈ میں پولیس کو پہلے ہی مخصوص حالات میں، جب کسی جرم یا بدامنی کے سلسلے میں شناخت چھپانے کا شبہ ہو، چہرہ ڈھانپنے والا لباس ہٹانے کا مطالبہ کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔

