واشنگٹن (اے پی، رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کیلئےبات چیت جاری ہے۔
6 نومبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے بات کر رہا ہے اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔
ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق قطر نے ایران کو امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام کے معاملے پر اختلافات دور کرنے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں، جن کا ایرانی حکام جائزہ لے رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے دو حکام کے مطابق قطر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہیں، جن کے تحت امریکا ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرے، جبکہ ایران اپنے جوہری مقامات پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو رسائی دے۔
مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بعد ازاں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سمیت جوہری پروگرام کے دیگر معاملات پر مذاکرات کی تجویز بھی شامل ہے۔
تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بعض بنیادی مطالبات تسلیم کیے جانے تک جوہری مذاکرات شروع کرنا ممکن نہیں۔ تہران کی شرائط میں امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب قطر سمیت خطے کے مختلف ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

