میساچوسٹس (بین الاقوامی میڈیا) امریکی ریاست میساچوسٹس میں سرکاری تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ 3 کیتھولک ڈاؤسز میں کم از کم 275 مذہبی عہدیداروں پر 944 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ریاست کی اٹارنی جنرل اینڈریا جوئے کیمبل کی جانب سے جاری 203 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فال ریور، اسپرنگ فیلڈ اور ووسٹر کے کیتھولک ڈاؤسز میں کئی دہائیوں تک بچوں سے زیادتی کے واقعات پیش آتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران کئی سال پرانے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا اور 100 سے زائد افراد کے انٹرویوز کیے گئے، جن میں متاثرین بھی شامل تھے۔ زیادہ تر مبینہ واقعات 2002 سے پہلے کے ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ چرچ کے بعض عہدیداروں نے شکایات اور انتباہ پر مناسب کارروائی نہیں کی، جبکہ بعض ملزم پادریوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کردیا گیا۔اینڈریا جوئے کیمبل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بعض مواقع پر اداروں نے بچوں کے تحفظ کے بجائے چرچ کی ساکھ کو ترجیح دی۔
رپورٹ میں متاثرین کے تحفظ اور قانونی اصلاحات کیلئے مزید اقدامات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

