واشنگٹن / تہران (ایجنسیاں) آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کر دی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق ایران نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متعدد تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملوں میں کم از کم تین تجارتی بحری جہاز متاثر ہوئے، جن میں دو آئل بردار جہاز بھی شامل ہیں، تاہم عملے کے ارکان محفوظ رہے۔ برطانوی بحری نگرانی کے ادارے نے بھی دو بحری جہازوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی فوج نے ان حملوں کو بین الاقوامی بحری راستوں کے خلاف سنگین اقدام اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔ امریکی فوجی بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا ہے۔
ایران نے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ دھمکیوں کی پالیسی ترک نہیں کرتا، کسی حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات ممکن نہیں۔
آبنائے ہرمز میں تازہ حملوں اور امریکی جوابی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں مزید بڑھیں تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی رسد اور بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

