لندن (بی بی سی) برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملازمت دینے والے کاروباری اداروں پر عائد جرمانوں کی وصولی کے نظام کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے معاملے کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا جس میں ایک وکیل نے خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے مکالمے میں 45 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ ختم کرانے میں مدد دینے کی پیشکش کی تھی۔
بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے وکیل محمد الیاس یوسف، جنہیں الیاس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ وہ ایک چھوٹے بازار کی دکان کے مالک کو غیر قانونی کارکن رکھنے پر عائد جرمانے سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ رپورٹر نے خود کو ایسے دکان دار کے طور پر پیش کیا تھا جس پر 45 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق وکیل نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر بیرونِ ملک سے کسی شخص کو دکان کا مالک ظاہر کر دیا جائے تو جرمانہ اس کے نام منتقل کرایا جا سکتا ہے۔ اس کام کے لیے انہوں نے 4 ہزار 500 پاؤنڈ فیس لینے کی بات بھی کی۔
محمد الیاس یوسف نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کو غلط معلومات فراہم کرنے یا کسی دوسرے شخص کے نام پر جرمانہ منتقل کرانے کا مشورہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی طریقوں سے جرمانوں کو چیلنج کرتے ہیں اور کسی بے بنیاد یا غیر دیانت دارانہ مقدمے میں معاونت نہیں کرتے۔
بی بی سی کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ محکمہ داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق غیر قانونی ملازمت سے متعلق کم از کم 15 کروڑ پاؤنڈ کے جرمانے تاحال وصول نہیں کیے جا سکے۔ اس صورتِ حال کے بعد وزیر داخلہ شبانہ محمود نے جرمانے عائد کرنے اور ان کی وصولی کے پورے طریقۂ کار کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بی بی سی کی ان تحقیقات کو سراہتی ہیں جن کے ذریعے قوانین کو کمزور کرنے والوں کے معاملات سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ملازمت دیانت دار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچاتی، مقامی اجرتوں کو متاثر کرتی اور منظم غیر قانونی نقل مکانی کو فروغ دیتی ہے۔
محکمہ داخلہ نے وکیل کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ دوسری جانب برطانوی وکلا کی نگرانی کرنے والے ادارے نے بھی بی بی سی کی تحقیقات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ وکیل یا ان کی قانونی فرم کے خلاف ممکنہ تادیبی کارروائی کے معاملے کا تعین کیا جا سکے۔

