نئے صوبے یا کچھ اور ۔۔۔؟

آج کل نئے صوبوں کی تشکیل پر گرما گرم بحث جاری ہے اسی ایشو پر سیاست اور صحافت ہو رہی ہے حق اور مخالفت میں دلائل دیے جا رہے ہیں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے کنسرن شو کر رہی ہیں نظام کے ناکام ہونے کی چرچا ہے اور نئے صوبوں کے قیام کو نئے نظام سے جوڑا جا رہا ہے اور تمام تر مسائل کا حل نئے صوبوں کے قیام سے مشروط کیا جا رہا ہے چونکہ اس وقت پورا معاشرہ جمود کا شکار ہے نہ سیاسی حالات مستحکم ہو پائے ہیں نہ معاشی بہتری لائی جا سکی ہے مہنگائی ہر روز زور پکڑ رہی ہے روزگار کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں انتظامی معاملات بھی شتر بے مہار ہیں نہ پولیس کنٹرول میں ہے نہ انتظامیہ سرکاری افسر اپنی جگہ من مانیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں ایسے حالات میں عام آدمی کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے ان سارے حالات کو اس سے جوڑا جا رہا ہے کہ چونکہ انتظامی یونٹ بہت بڑے ہیں لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے اس لیے تمام تر مسائل کا حل چھوٹے صوبوں کی تشکیل میں ہے کئی قسم کے فارمولے زیر بحث ہیں پنجاب کو تین حصوں میں سندھ کو دو حصوں میں بلوچستان کو چار حصوں میں اور خیبر پختون خواہ کو دو حصوں میں تقسیم کی بات کی جا رہی ہے اسلام آباد،کراچی اور گوادر کو وفاقی حیثیت دینے کی باتیں ہو رہی ہیں کچھ لوگ ڈویژنل سطح پر صوبے بنانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن اس بحث کے بیچوں بیچ ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی بھی بات کی جا رہی ہے میری ذاتی رائے ہے کہ برطانیہ طرز کا نظام وضع ہونا چاہیے ہر ضلع کی سطح پر ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں ہر ضلع کا گورنر اور مئیر ہو ہر ضلع کی اپنی انتظامیہ اور پولیس ہو مقامی سطح پر ٹیکس لگائے جائیں ہر ضلع اپنے ترقیاتی کام کروائے صوبائی حکومتیں ختم کر دی جائیں اور صوبوں کے اختیارات ضلعوں کو منتقل کر دیے جائیں جس طرح برطانیہ میں لوکل گورنمنٹ کا بارو سسٹم ہے جبکہ باقی تمام تر اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہوں خارجہ امور،خزانہ،دفاع جیسے معاملات وفاق کے پاس ہوں اور قومی پالیسیاں تشکیل دینا وفاق کا کام ہو باقی تمام تر معاملات اضلاع کے سپرد کر دینے چاہئیں اس سے صوبائیت ختم ہو جائے گی لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے اضلاع میں ترقی اور بہتری کا مقابلہ سازی کا رحجان بڑھے گا جو ضلع زیادہ سہولتیں دے گا لوگ وہاں سرمایہ کاری کریں گے صوبوں اور وفاق کی بلیک میلنگ ختم ہو جائے گی علاقائی سیاست کی جگہ وفاقی اور مقامی سیاست لے لے گی لیکن اصل مسئلہ تو نیتوں کا ہے دنیا میں بہت سارے نظام مختلف اشکال میں کامیابی کے ساتھ ڈیلیور کر رہے ہیں اور وہاں کے عوام بھی مطمئن دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کے مسائل حل ہو رہے ہوتے ہیں ان کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوتی ہیں ہم نے پچھلے 79 سالوں میں مختلف قسم کے نظام آزما کر دیکھ لیے ہیں لیکن عوام مطمئن نہیں ہو پا رہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سسٹم میں تسلسل نہیں ہم نے پاکستان کو نظاموں کی لیبارٹری بنا دیا ہے جہاں ہر روز نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں جب تک تسلسل کے ساتھ اور عوام کو ڈیلیور کرنے کی نیت کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جائے گا معاملات میں بہتری نہیں آ سکتی کیونکہ دنیا میں کوئی نظام اچھا اور برا نہیں ہوتا اصل معاملہ نظام کو چلانے والوں کی نیتوں پر منحصر ہے اگر نظام چلانے والوں کی نیت درست ہے اور وہ ڈیلیور کرنا چاہتے ہیں تو وہ برے سے برے سسٹم میں بھی لوگوں کو ڈیلیور کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ سونے کے حروف سے لکھا کوئی سکہ بند نظام لے آئیں لیکن اس پر عملدرآمد کروانے والوں کی نیت اگر درست نہیں تو وہ بھی ڈیلیور نہیں کر سکتا دنیا میں کئی جگہوں پر بادشاہتیں ہیں کہیں صدارتی نظام ہے کئی قسم کے پارلیمانی جمہوری نظام چل رہے ہیں لیکن وہ کامیابی کے ساتھ عوام کو ڈیلیور کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں ہر نظام ناکام ہو رہا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے ہاں نظام کی بالادستی نہیں شخصیات کی بالادستی ہے ہمارے ہاں نظام شخصیات کے زیر اثر ہے شخصیات نظام کے زیر اثر نہیں اس لیے جب تک ہم نظام کی بالادستی قائم نہیں کرتے اس وقت تک بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی میرے تجزیہ کے مطابق صوبوں کی تقسیم کا سوشہ چھوڑ کر ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے جس میں صوبوں کے اختیارات کم کر دیے جائیں گے تاکہ صوبوں کی مناپلی ختم کی جا سکے نئے نظام کے راستے میں پیپلزپارٹی تو کھل کر سامنے آ گئی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کھل کر دل کی بات نہیں کر رہی وہ بادل ناخواستہ نئے نظام کی حامی بھی ہے اور دبے لفظوں میں مخالفت بھی کر رہی ہے وہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھوں والی پالیسی پر کاربند ہے جبکہ تحریک انصاف کہتی ہے پہلے ہمیں ریلیف دیں باقی کی بات پھر دیکھیں گے صوبوں کی تقسیم تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ فوری غیر جانبدار صاف شفاف انتخابات کروائے جائیں اور یہ معاملہ نئی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے لیکن کمال تو یہ ہے کہ ایک فرد واحد وزیر داخلہ نئے سسٹم کی داغ بیل ڈالنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں وہ بیک وقت اپنی حکومت سے بھی ڈیل کر رہے ہیں تحریک انصاف سے بھی رابطوں میں ہیں اور پیپلزپارٹی سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں آگے چل کر کامیابی اسی کے قدم چومے گی جو محسن نقوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا