ہمارے پاس امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے: ایران

تہران (ایرانی میڈیا) ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابنِ رضا نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مطلوبہ ٹیکنالوجی اور فوجی صلاحیت موجود ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنِ رضا سے سوال کیا گیا کہ آیا ایرانی فورسز آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی نافذ کرنے والے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئےمطلوبہ ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے، جبکہ سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو اس کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحری جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے، جس کے بعد امریکی فوج نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی بحری جہاز ایرانی میزائل حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے۔

ایران کی جانب سے اس سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نئے ایرانی میزائلوں کے ذریعے امریکا کو واضح پیغام دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک نئے بیلسٹک میزائل ’قاسم بصیر‘ کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا ہے، جس کی بتائی گئی رینج کم از کم 1200 کلومیٹر اور وار ہیڈ کا وزن تقریباً نصف ٹن ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی نئی فوجی حکمتِ عملی کسی خطرے کے عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی کارروائی کرنے پر مبنی ہوگی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکا علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کی جانب سے بحری راستے میں خلل ڈالنے کی صورتِ حال کو معمول یا مستقل حقیقت بننے سے روکا جاسکے۔

ٹومی پگوٹ نے کہا کہ امریکا عالمی معیشت کو ’بلیک میل‘ کرنے کی ایران کی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئے ’بحری ممنوعہ زون‘ کے قیام کا عندیہ دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مزید امریکی حملے کی صورت میں خلیج میں امریکی توانائی کے اثاثے بھی اس کے جوابی اقدامات کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کھلی ہے اور امریکی بحریہ نے آبی گزرگاہ میں موجود بارودی سرنگوں کو صاف کردیا ہے، تاہم ایران کی دھمکیوں اور امریکا کی جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں جہاز رانی کے خطرات برقرار ہیں۔ امریکی حکام نے ایرانی ’بحری ممنوعہ زون‘ کے منصوبے کو بھی مسترد کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری ٹریفک متاثر ہوئی ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔