ماسکو (ایجنسیاں) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعات کو فوجی ذرائع سے حل کرنا ناقابل قبول ہے۔
ماسکو میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے خطے کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ تنازعات کو فوجی ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فریقین کو فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تنازعات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
سرگئی لاروف نے سعودی عرب کے ساتھ روس کے اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ روس اور سعودی عرب اوپیک کے فریم ورک کے تحت باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔
دونوں ممالک اوپیک پلس کے تحت عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام کے لیے تعاون کرتے رہے ہیں۔ رواں ماہ بھی سعودی عرب، روس اور دیگر اہم اوپیک پلس ممالک نے عالمی تیل مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مارکیٹ کے استحکام کے لیے اپنے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کے خلاف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا اور اپنی سلامتی کے دفاع سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے حوثی حملوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری اور مفادات کے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یمن کی حوثی جماعت انصار اللہ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی توانائی اور اقتصادی تنصیبات میں بھی آگ لگی اور بعض مقامات پر آپریشنز عارضی طور پر متاثر ہوئے۔ جازان میں سعودی آرامکو کی اہم ریفائنری بھی حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں شامل ہے۔
حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی جانب سے یمن میں کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے، جبکہ سعودی قیادت نے حملوں کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
حالیہ حملوں نے یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے اثرات کو سعودی عرب تک پھیلا دیا ہے اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی تیل مارکیٹ میں بھی تشویش پیدا کردی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

