اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے دوسرے بل کی بھی مخالفت کی، تاہم کمیٹی نے حکومتی مخالفت کے باوجود ووٹنگ کے ذریعے بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
دورانِ اجلاس طلال چوہدری نے کہا کہ اگر بغیر پڑھے تمام بل منظور کرنے ہیں تو یہ کمیٹی کی مرضی ہے۔اس پر سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ ہم سینیٹرز یہاں صرف بیٹھے ہیں کہ بل کی مخالفت سنتے رہیں۔طلال چوہدری نے جواب دیا کہ ’’میری مرضی ہے، میں مخالفت کروں یا نہ کروں۔‘‘
سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ ’’ہم سینیٹرز فارغ بیٹھے ہیں؟ انہیں سمجھائیں، طریقہ سکھائیں۔‘‘جس پر طلال چوہدری نے کہا کہ یہ صحت کا معاملہ ہے اور یہاں وزارتِ قانون کے نمائندے پر غصہ کیا جا رہا ہے۔
سیف اللّٰہ ابڑو نے جواب دیا کہ ’’یہ یہاں بیٹھ کر ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘‘صورتِ حال پر کمیٹی کے چیئرمین نے سیف اللّٰہ ابڑو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیف اللّٰہ صاحب، بس کریں، ڈیکورم کا خیال کریں اور کمیٹی چلانے دیں۔‘‘

