اسلام آباد کیلئے نئے طرز حکمرانی کی 20 سفارشات حتمی، اپنی اسمبلی اور حکومت کی تجویز

اسلام آباد، کراچی (نمائندگان) وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد کے نئے طرز حکمرانی کیلئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے 20 اہم سفارشات کو حتمی شکل دے دی۔

کمیٹی نے سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ شیئر کردی ہیں، جن میں وفاق سے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کو بطور وفاقی اکائی اختیارات کی منتقلی اور جمہوری کنٹرول کیلئے نمائندہ حکومت کے قیام کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی اپنی حکومت اور منتخب اسمبلی ہوگی۔ اس مقصد کیلئے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی (آئی سی ٹی اے) قائم کی جائے گی جو صوبائی اسمبلیوں کی طرز پر قانون ساز ادارے کے طور پر کام کرے گی، تاہم امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے۔

تجویز کے تحت آئی سی ٹی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 27 ہوگی، جن میں 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کیلئے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کیلئے ایک نشست مختص ہوگی۔ قومی اسمبلی کے ہر حلقے کو آئی سی ٹی اسمبلی کیلئے 7 حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

آئی سی ٹی اسمبلی کے ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا، جبکہ اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔

اسمبلی اپنے قائد کا انتخاب کرے گی جسے وزیراعلیٰ یا میئر کہا جائے گا۔ وہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کا چیف ایگزیکٹو ہوگا اور اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

سفارشات کے مطابق آئی سی ٹی کے محکمے صوبائی محکموں کی طرز پر قائم کیے جائیں گے تاہم ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی۔ کاروبارِ حکومت کے قواعد کے تحت ان محکموں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔

قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ تمام محکمے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کے ماتحت کام کریں گے۔ قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے وفاقی حکومت کے تحت رہیں گے اور متعلقہ وفاقی وزیر کے ذریعے اپنے اختیارات و فرائض انجام دیں گے۔ وفاقی حکومت اسلام آباد کیلئے گورنر بھی مقرر کرسکے گی۔

کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ماسٹر پلاننگ کے علاوہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تمام اختیارات اور فرائض اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کردیئے جائیں۔

اسلام آباد کا مقامی حکومتی نظام صرف یونین کونسلز پر مشتمل ہوگا، جو آئی سی ٹی حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت دیگر اداروں کو تفویض کیے گئے اختیارات اور فرائض بھی اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انتظامی ڈھانچے کے تحت اسلام آباد میں ایک چیف سیکریٹری ہوگا، جس کیلئے موجودہ چیف کمشنر کے عہدے کو بنیاد بنایا جائے گا، جبکہ مختلف محکموں کے گروپس کی نگرانی کیلئے چار سیکریٹریز مقرر کیے جائیں گے۔ کاروبارِ حکومت کے قواعد کے تحت ان عہدوں کے نام تبدیل کیے جاسکیں گے۔

قانون، امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے اسلام آباد کے چیف سیکریٹری کے ذریعے متعلقہ وفاقی وزیر یا گورنر کو رپورٹ کریں گے۔

کمیٹی کی سفارشات کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کیلئے ایک نمائندہ اور بااختیار حکومت کا قیام ہے، تاہم حتمی منظوری اور قانونی شکل دینے کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔