کینیڈا میں جرائم کے بارے میں بات کرتے ہوئے دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے۔ ایک طرف ہر واقعے کو دیکھ کر یہ تاثر دینا درست نہیں کہ ملک میں جرائم بے قابو ہوچکے ہیں اور دوسری طرف سرکاری اعدادوشمار میں مجموعی کمی کو بنیاد بنا کر ہر سنگین واقعے کی شدت کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
تازہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں کینیڈا کا مجموعی Crime Severity Index کم ہوا، جبکہ پرتشدد جرائم کے اشاریے میں بھی 4.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اونٹاریو میں مجموعی Crime Severity Index میں 6.2 فیصد کمی ہوئی۔
یعنی مجموعی تصویر یہ نہیں کہ کینیڈا میں ہر قسم کا جرم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ لیکن اعدادوشمار کسی ایسے شخص کے خوف، نقصان یا عدم تحفظ کو ختم نہیں کردیتے جس کے گھر کے باہر رات کے اندھیرے میں گاڑیوں کو آگ لگا دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹورنٹو میں پاکستانی نژاد رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کے گھر کے باہر پیش آنے والا واقعہ صرف ایک آتش زنی کا مقدمہ نہیں بلکہ قانون، تفتیش اور انصاف پر کئی اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
27 اگست کی صبح تقریباً ڈیڑھ بجے سلمیٰ زاہد کی رہائش گاہ کے باہر متعدد گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی سکیورٹی ویڈیو میں ایک شخص کو پانچ گاڑیوں پر آتش گیر مواد ڈالتے اور ان میں سے بعض کو آگ لگاتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ گھر محفوظ رہا اور سلمیٰ زاہد اور ان کا خاندان محفوظ رہے۔
اس کیس میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ 24 سالہ روشون کرافٹن کو 30 اگست کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے اس کے خلاف آتش زنی، 5 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے نقصان، قابلِ تعزیر جرم کی سازش، آتش گیر مواد رکھنے اور پروبیشن کی شرائط کی خلاف ورزی سمیت متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس نے ایک دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش بھی جاری رکھی ہوئی ہے اور ایک سیاہ رنگ کی 2025 ہنڈائی سوناٹا جوکینیڈا میںرجسٹر ڈہے کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔
یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہے۔ گرفتاری 30 اگست کو ہوئی تھی، جبکہ پولیس نے گرفتاری اور دیگر تفصیلات 4 ستمبر کو عوام کے سامنے جاری کیں۔ اس لیے اسے یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ ملزم 30 اگست کو گرفتار ہوا اور پولیس نے 4 ستمبر کو اس پیش رفت کا اعلان کیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا گرفتار ملزم نے جرم کا اعتراف کیا ہے؟اب تک سامنے آنے والی معتبر اطلاعات میں ایسے کسی اعتراف کا ذکر نہیں۔ خود سلمیٰ زاہد نے بھی کہا ہے کہ واقعے کا محرک یا مقصد ابھی معلوم نہیں اور وہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتیں۔
لیکن کسی فوجداری مقدمے کو حل کرنے کیلئےملزم کا اعتراف لازمی نہیں ہوتا۔ جدید تفتیش میں سکیورٹی کیمرے، گاڑیوں کی نقل و حرکت، موبائل اور ڈیجیٹل ریکارڈ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، ممکنہ ڈی این اے یا فنگر پرنٹس، گواہوں کے بیانات، گاڑیوں اور افراد کے درمیان روابط اور مالی یا مواصلاتی ریکارڈ سمیت کئی ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس کیس میں ان میں سے کون کون سے شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں، یہ فی الحال عوامی طور پر واضح نہیں، اس لیے کسی ایک ذریعے کو حتمی ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
دوسرا اہم سوال دوسرے مشتبہ شخص کا ہے۔ اگر پولیس سمجھتی ہے کہ ایک سے زیادہ افراد اس واقعے میں ملوث تھے تو دوسرے شخص تک پہنچنا تفتیش کا اہم مرحلہ ہوگا۔ یہاں سکیورٹی ویڈیو، مشتبہ گاڑی اور 23 سے 27 اگست کے درمیان اس گاڑی کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات اہم ہوسکتی ہیں۔ تاہم جب تک پولیس مزید شواہد سامنے نہیں لاتی، دوسرے شخص کے کردار یا محرک کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔
پھر آتا ہے ضمانت کا سوال۔کینیڈا میں کسی شخص پر الزام عائد ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مقدمہ ختم ہونے تک لازماً جیل میں رکھا جائیگا۔ ضمانت کا فیصلہ عدالت کرتی ہے اور اس میں ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ، عوام یا متاثرہ افراد کیلئےممکنہ خطرہ، مقدمے کے حالات اور دیگر قانونی عوامل دیکھے جاتے ہیں۔ اسلئے صرف یہ حقیقت کہ ملزم پر سنگین الزامات ہیں خود بخود اس بات کی ضمانت نہیں کہ اسے ضمانت نہیں ملے گی۔
لیکن اگر عدالت کسی شخص کو ضمانت پر رہا کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ مناسب حالات میں عدالت ایسے شرائط عائد کرسکتی ہے جو عوامی تحفظ اور مقدمے کی سالمیت کیلئے ضروری ہوں۔ خاص طور پر اگر کسی شخص کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ دوبارہ اسی نوعیت کی سرگرمی میں ملوث ہوسکتا ہے یا مقدمے سے متعلق افراد سے رابطہ کرسکتا ہے تو عدالت کو ان خطرات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا چاہیے: ضمانت سزا نہیں بلکہ مقدمے سے پہلے رہائی کا قانونی عمل ہے۔ سزا کا فیصلہ تب ہوتا ہے جب عدالت جرم ثابت ہونے کے بعد فیصلہ سناتی ہے۔
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ملزم ضمانت پر باہر آتا ہے تو کیا وہ دوبارہ اسی حلقے میں شامل ہوسکتا ہے جس کے ساتھ مبینہ طور پر جرم کیا گیا؟
اس کا جواب حالات اور عدالت کی عائد کردہ شرائط پر منحصر ہوگا۔ اگر عدالت کو کسی مخصوص شخص، گروہ یا سرگرمی سے رابطے کے حوالے سے خطرہ محسوس ہو تو متعلقہ پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ شواہد اور قانونی معیار پر ہوگا، محض عوامی غصے یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں۔
اور یہی اصول ہمیں ایک زیادہ حساس سوال تک لے جاتا ہے اگر یہی واقعہ کسی عام شہری کے گھر کے باہر پیش آتا تو کیا پولیس اسی طرح کارروائی کرتی؟
قانونی طور پر جواب یہی ہونا چاہیے کہ ہاں۔
کسی شخص کا رکنِ پارلیمنٹ ہونا تفتیش کی رفتار یا ریاستی توجہ کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ منتخب نمائندے پر حملہ جمہوری اداروں اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے اضافی تشویش پیدا کرتا ہے۔ لیکن بنیادی فوجداری قانون ہر شہری کیلئے یکساں ہونا چاہیے۔
سلمیٰ زاہد پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں، اس لیے پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کیلئےاس واقعے کی حساسیت فطری طور پر زیادہ ہے۔ لیکن کسی بھی تفتیش میں کسی ملزم کیخلاف کارروائی اس کی نسل، مذہب یا پس منظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ کسی جرم کے پیچھے نسلی، سیاسی یا نفرت پر مبنی محرک تھا تو اس پہلو کو بھی قانون کے مطابق نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہی وہ توازن ہے جو ایک مہذب معاشرے کیلئے ضروری ہے: نہ متاثرہ شخص کو اسلئے نظرانداز کیا جائے کہ وہ عام شہری ہے، اور نہ کسی ملزم کو صرف اسلئےمجرم سمجھ لیا جائے کہ اس کیخلاف الزامات سنگین ہیں۔
کینیڈا میں حالیہ دنوں کے دیگر واقعات بھی اسی بحث کو مختلف زاویوں سے سامنے لاتے ہیں۔ سڈبری میں 14 سالہ لڑکے پر مبینہ حملے کے بعد دو افراد کے خلاف الزامات عائد ہونا، ہیلی فیکس میں مبینہ نسلی گالم گلوچ اور دھمکیوں کے واقعے میں متعدد الزامات کا سامنے آنا، اور ملک میں شدت پسند یا نفرت انگیز نظریات کو معمول بنانے کی کوششوں سے متعلق رپورٹس اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ عوامی تحفظ صرف پولیس کی تعداد بڑھانے کا نام نہیں۔یہ مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔
اس میں پولیس کی تفتیش، پراسیکیوشن کا کردار، عدالتوں کے فیصلے، ضمانت کا نظام، سزا کا مؤثر نفاذ، متاثرین کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد شامل ہے۔
جرائم کے سرکاری اعدادوشمار میں کمی یقیناً اچھی خبر ہے، لیکن ایک معاشرہ صرف اس وقت محفوظ نہیں کہلاتا جب مجموعی گراف نیچے جارہا ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی سنگین واقعہ سامنے آئے اور ریاست یہ ثابت کرے کہ متاثرہ شخص کون ہے، اس کا تعلق کس نسل یا برادری سے ہے، وہ کتنا بااثر ہے یا بالکل بے اثر ہے، قانون سب کیلئے ایک ہی ہے۔
سلمیٰ زاہد کے گھر کے باہر آتش زنی کے مقدمے میں ایک ملزم گرفتار ہوچکا ہے، دوسرا ابھی مطلوب ہے اور محرک بھی سامنے نہیں آیا۔ اب اصل کامیابی گرفتاری پر نہیں بلکہ اس وقت سمجھی جائے گی جب پولیس مکمل شواہد اکٹھے کرے، پراسیکیوشن مقدمہ مضبوطی سے پیش کرے، عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دے اور متاثرہ خاندان کو یہ یقین ہو کہ انصاف ہوا ہے۔
کیونکہ آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ ملزم کون تھا؟
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کینیڈا کا نظامِ انصاف ہر شہری کو یہ اعتماد دے سکتا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والے جرم کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے گا جتنی ایک منتخب رکنِ پارلیمنٹ کے معاملے کو؟
یہی اعتماد کسی بھی قانون پسند معاشرے کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔

