ایران کا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ڈسٹرائر کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران (رائٹرز، اے پی، اناطولیہ نیوز ایجنسی) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ڈسٹرائر ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں شریک تھے، اس لیے انہیں بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ دونوں امریکی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچا اور وہ آبنائے ہرمز کے علاقے سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی ایک بغیر پائلٹ بحری کشتی کو بھی نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز کے محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ دشمن کی ہر حرکت ایرانی بحریہ کی نظروں میں ہے اور دشمن کی کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر پر متعدد بیلسٹک میزائل حملے کیے، تاہم دونوں امریکی جنگی جہاز حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے اور کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

امریکی فوج کے مطابق ایرانی حملوں کے جواب میں امریکی فورسز نے 5 ستمبر کو 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والے ایک خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان بحری کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔