تہران میں یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کی تقریب کاکیک کاٹاگیا

تہران (خصوصی رپورٹ) پاکستان کے یومِ دفاع و شہدائے کی مناسبت سے تہران میں پاکستان ہاؤس میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی حکام، سفارتی برادری، سول و عسکری حکام اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان کے ایران میں سفیر عمران احمد صدیقی نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملکی دفاع اور قوم کی خدمت میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پاکستان کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

سفیر عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ اختلافات کے حل کیلئےسفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد کا فروغ بہترین ذرائع ہیں، تاہم پاکستان اپنی خودمختاری کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلئےپوری طرح تیار ہے اور اپنے حقوق اور قومی مفادات، بالخصوص سندھ طاس کے اہم آبی وسائل سے متعلق حقوق کے تحفظ کیلئےتمام جائز ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا تصور روایتی سکیورٹی کے دائرے تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشی استحکام، سماجی ترقی، تکنیکی صلاحیت اور ریاست کی جانب سے توانائی، خوراک، پانی اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والوں کو بہترین خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ایسا ملک تعمیر کیا جائے جو نہ صرف محفوظ اور خوشحال ہو بلکہ امن اور مذاکرات کو محاذ آرائی اور تنازع پر ترجیح دینے کے لیے پراعتماد بھی ہو۔

سفیر نے ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج کی لاجسٹکس کے شعبے میں ڈپٹی وزیر اور ڈائریکٹر جنرل برائے بین الاقوامی تعلقات بریگیڈیئر جنرل سید حمزہ گیلانداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔

عمران احمد صدیقی نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے، جبکہ پاکستان اور ایران کی سیاسی و عسکری قیادت نے اس انتہائی اہم تعلق کو مستحکم اور وسعت دینے میں مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

اس سے قبل سفارتخانے کے ڈیفنس و آرمی اتاشی بریگیڈیئر ناصر عزیز کھٹک نے یومِ دفاع و شہدائے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ملک کے خلاف مختلف جارحانہ فوجی مہمات کا مقابلہ کرنے والے بہادر فوجیوں کی بے لوث قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے جب قوم نے متحد ہو کر عددی برتری رکھنے والے دشمن کی جارحانہ پیش قدمی کو ناکام بنایا۔

بریگیڈیئر ناصر عزیز کھٹک نے کہا کہ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مشکلات کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو کئی دہائیوں سے ناانصافی اور ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔

مہمانِ خصوصی بریگیڈیئر جنرل سید حمزہ گیلانداری نے پاکستان کو یومِ دفاع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان قریبی تعلقات اور تعاون کے نتیجے میں دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے دونوں جانب سکیورٹی کے قیام کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مکمل سرحدی سلامتی کے قیام اور مشترکہ سرحد کو دوستی اور خوشحالی کی سرحد میں تبدیل کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

تقریب کے موقع پر پاکستان کی عسکری تاریخ پر مبنی نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کرنے والے شہید فوجیوں کے پورٹریٹس، پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کے ماڈلز اور دیگر فوجی سازوسامان و ہتھیار بھی نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔

تقریب کے اختتام پر یومِ دفاع کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا جبکہ مہمانوں کی پاکستانی روایتی کھانوں سے تواضع بھی کی گئی۔