وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کیف پہنچ گئے، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں تیز

کیف (رائٹرز) امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں تقریباً تین گھنٹے کی اہم ملاقات کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے، جہاں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد وِٹکوف اور کشنر کا کیف کا یہ پہلا دورہ ہے۔ دونوں کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔

کیف پہنچنے کے بعد امریکی وفد نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وِٹکوف نے وسطی کیف میں واقع تاریخی سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کا بھی دورہ کیا، جو روسی حملے سے متاثر ہوا ہے۔

یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کی کھڑکیوں اور فریموں کو روسی حملے سے نقصان پہنچا ہے۔ جمعے کو کیف میں یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے ہیڈکوارٹر کو بھی روسی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے اثرات تاریخی کیتھیڈرل تک پہنچے۔

ملاقات سے قبل صدر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود امریکی نمائندوں کو کیف آنے کی اجازت دی۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین طویل عرصے سے وِٹکوف اور کشنر کے دورے کا منتظر تھا۔

یوکرینی صدر نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوکرین مذاکرات کیلئے تیار ہے اور ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم امن کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتیں بھی ضروری ہیں۔ یوکرین باوقار جنگ کے بعد امن چاہتا ہے اور اس حوالے سے اس کی تجاویز تیار ہیں۔

یوکرینی صدارتی دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف نے بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے نمائندے بھی کیف میں موجود ہیں اور دن بھر اہم مذاکرات ہوں گے۔وِٹکوف اور کشنر نے ماسکو میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے بعد پولینڈ کے شہر ژیشوف کا سفر کیا، جہاں سے انہوں نے غالباً ریل کے ذریعے کیف کا سفر جاری رکھا۔

امریکی وفد کے سفارتی دورے کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی بھی نافذ کی گئی، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں ماسکو اور کیف پر فضائی حملے روکنے پر اتفاق کیا۔

یہ جنگ بندی صرف ماسکو اور کیف تک محدود ہے، جس کے باعث روس نے یوکرین کے دیگر علاقوں میں حملے جاری رکھے۔ تاہم کیف شہر کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے روسی سرزمین سے 108 شاہد طرز کے ڈرون داغے۔ تازہ حملوں میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کیف ریجن میں بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یوکرین کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 10 شہری ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔

امریکی وفد نے اپنے سفارتی دورے کا آغاز ہفتے کو کریملن میں صدر پیوٹن کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات سے کیا۔ کریملن کی جانب سے جاری بریفنگ کے مطابق مذاکرات کے بعد امریکی نمائندوں نے روسی صدر کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔