کراچی (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی مجوزہ ریلی کے انعقاد کے بغیر سندھ نہیں چھوڑیں گے، ان کا قافلہ کراچی کی جانب رواں دواں ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے ہمراہ سندھ میں پارٹی کی 5 روزہ عوامی رابطہ مہم پر ہیں، جس کا مقصد 27 ستمبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ان کے فوری طبی علاج کے مطالبے کیلئے ملک گیر احتجاج کی تیاری ہے۔
سہیل آفریدی نے کراچی روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کراچی نہ پہنچ سکے تو ان شاء اللہ کل ریلی کرینگے اور اگر کل بھی ممکن نہ ہوئی تو اس کے اگلے روز ریلی منعقد کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں تحریک شروع کرنے کا مقصد حاصل کیے بغیر سندھ سے ایک قدم بھی باہر نہیں رکھیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب سوشل میڈیا پر ان کے استقبال کی بات کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب قافلے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ اگر یہ سب ان کی حکومت نہیں کروا رہی تو وہ بتائیں کہ رکاوٹیں کون کھڑی کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور پولیس ان کی نگرانی میں ہیں، اگر پولیس یہ کارروائی نہیں کررہی تو اسے موقع سے ہٹا دیا جائے تاکہ اصل ذمہ دار سامنے آسکیں۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، جو وزیراعلیٰ کے ہمراہ قافلے میں موجود ہیں، نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انہیں ایک ٹرک چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ یہ ٹرک ٹنڈو الہیار میں ان کے قافلے کا راستہ روکنے کیلئےکھڑا کیا گیا تھا۔
بعدازاں حلیم عادل شیخ نے ایسی ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں ان کے دعوے کے مطابق حیدرآباد کے شہری پی ٹی آئی کے قافلے کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
اس سے قبل سہیل آفریدی نے حیدرآباد اور ٹنڈو الہیار میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کیا۔ حیدرآباد کے حیدر چوک پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے حالیہ بیان پر معافی کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان پر دو خاندان حکومت کررہے ہیں، ایک سندھ اور دوسرا پنجاب سے ہے، تاہم پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے ایک عام کارکن کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ منتخب کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک اور اپنے مستقبل کے لیے آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ثابت ہوگا اور ملک کی تقدیر بدل دے گا۔
سہیل آفریدی نے شریف خاندان پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر ٹیکس چوری اور بیرون ملک جائیدادیں رکھنے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ یہ لوگ ماضی میں بھی پاکستان سے مخلص نہیں تھے، آج بھی نہیں ہیں اور مستقبل میں بھی نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب کراچی پولیس نے کہا ہے کہ مزار قائد کے اطراف کسی عوامی اجتماع، ریلی یا جلوس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس کے مطابق موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مزار قائد کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق مزار قائد کی جانب جانے والی بعض سڑکیں سکیورٹی خدشات کے باعث کنٹینرز لگا کر بند کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خطرے کے باعث مزار قائد پر سیاسی جماعت کو ریلی کی اجازت نہیں دی، تاہم پی ٹی آئی سپر ہائی وے پر ٹول پلازا یا جیل چورنگی کے قریب ریلی منعقد کرسکتی ہے۔
پولیس افسر کے مطابق اتوار کی شام مزار قائد پہنچنے کی کوشش کرنے والے پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 150 سے 200 کارکن جمع ہوئے تھے، جنہیں منتشر کرنے کی کوشش کے دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا، بعدازاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔
کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق سکیورٹی کے باعث شاہراہ قائدین کے دونوں اطراف ٹریفک بند کی گئی جبکہ شہر کے بعض دیگر اہم راستوں پر بھی ٹریفک کا رخ متبادل سڑکوں کی جانب موڑ دیا گیا۔
بلاول کا ’برداشت کی سیاست‘ پر زور
دوسری جانب ایک روز قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سہیل آفریدی کو سندھ کے دورے پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد برداشت، احترام اور بقائے باہمی کی سیاست پر ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں سہیل آفریدی کو ’’شہیدوں کے شہر‘‘ سندھ آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کے دورے کے باقی حصے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جواب میں سہیل آفریدی نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کی خوبصورتی سیاست اور اظہار رائے کی آزادی، عدلیہ کی آزادی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے، آزاد پارلیمان اور آزاد صحافت میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور حیدرآباد میں پی ٹی آئی کی اپیل پر بڑی تعداد میں عوام باہر نکلیں گے۔
سہیل آفریدی اس سے قبل بھی سندھ میں پی ٹی آئی کے لیے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں آچکے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابتدا میں سندھ حکومت کی جانب سے اپنے استقبال کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جمہوری روایت اب بھی صوبے میں موجود ہے، تاہم بعد میں انہوں نے سندھ حکومت پر اپنے مہمانوں کے ساتھ مناسب برتاؤ نہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
پی ٹی آئی نے اپنے قافلے کی مبینہ طور پر راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔ پارٹی نے سندھ حکومت سے کارکنوں کی رہائی اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر استقبال اور زمینی سطح پر کارکنوں کی گرفتاریاں ایک ساتھ جاری رہیں تو اسے جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی دکھاوا کہا جائے گا۔

